تحریر: حامد میر۔۔
وقت کس تیزی سے گزرا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ بقول منیر نیازی آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے۔ 2005ء کے زلزلے کے کئی ہفتوں بعد میں وادی نیلم کے ایک پہاڑ پر واقع گاؤں گجو خواجہ پہنچا۔ وہاں مجھے ایک سات سال کا بچہ ذیشان مل گیا ۔ اُس نے میرے ہاتھ میں جیو کا مائیک دیکھ کر کہا کہ انکل مشرف کو بتائیں کہ سردی آچکی ہے میرے گاؤں میں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی مجھے یہاں بہت سردی لگتی ہے۔ ذیشان کا یہ پیغام جیو نیوز پر کیپیٹل ٹاک میں نشر ہونیکی دیر تھی کہ ایک بھونچال آگیا ۔ اُسوقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ پروگرام دیکھتے ہی متعلقہ حکام سے پوچھا کہ گجو خواجہ میں ابھی تک امداد کیوں نہیں پہنچی؟ متعلقہ حکام نے انہیں بتایا کہ امداد تو ہر جگہ پہنچ چکی ہے لیکن حامد میر نے جھوٹ بولا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ امداد نہ ملنے کی شکائت تو ایک بچے نے کی ہے۔ صدر کو بتایا گیا کہ بچے نے بھی جھوٹ بولا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ ذیشان نام کا کوئی بچہ گجو خواجہ میں نہیں ہے اور حامد میر تو گجو خواجہ گیا ہی نہیں کیونکہ اس گاؤں تک جانیوالی سڑک زلزلے کے باعث ٹوٹ چکی ہے، ابھی تک سڑک مرمت نہیں ہوئی، یہ بھی کہا گیا کہ حامد میر نے حکومت کو بد نام کرنے کیلئے ایک بچے کا جھوٹا بیان نشر کیا ہے۔ یہ سُن کر صدر مشرف غصے میں آگئے۔ انہوں نے اس سارے معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا۔ اُسوقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل شوکت سلطان پی ٹی وی کے ایک پروگرام نیوز نائٹ میں نمودار ہوئے اور انہوں نے مجھے ’’اینٹی اسٹیٹ‘‘ قرار دیدیا۔ اگلے دن وائس چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل احسن سلیم حیات بہت سے صحافیوں کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر گجو خواجہ پہنچ گئے یہ سب سات سالہ ذیشان کو ڈھونڈنے آئے تھے کچھ ہی دیر میں انہیں ذیشان مل گیا۔ ذیشان نے بتایا کہ حامد میر ایک خچر پر بیٹھ کر آیا تھا، وہ پوچھ رہا تھا اس گاؤں میں امداد پہنچی ہے یا نہیں تو ہم نے اُسے بتایا ہے کہ گجو خواجہ میں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی ۔ سات سالہ ذیشان کی گواہی پی ٹی وی کے کیمرے پر ریکارڈ تو ہوئی لیکن نشر نہ کی گئی۔ میں یہ واقعہ بھول چکا تھا لیکن گزشتہ شام سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں ایک صحافی نے مجھے یہ واقعہ یاد دلایا اور بتایا کہ وہ بھی اُس ہیلی کاپٹر پر سوار تھا جو آپکو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے گجو خواجہ پہنچا تھا۔ اس صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ بیس سال پہلے بھی آپکو پی ٹی وی پر ریاست کا دشمن قرار دیا جاتا تھا بیس سال بعد آپ کشتی پر بیٹھ کر سیلاب زدہ علاقوں کے مسائل اجاگر کرتے ہیں تو پنجاب کی وزیر اطلاعات آپکو پنجاب کا دشمن قرار دیتی ہے۔ آپ لاپتہ افراد کا مسئلہ اُٹھاتے ہیں تو ’’مارخور‘‘ کے نام سے نامعلوم اکاؤنٹ آپکو بی ایل اے کا ہمدرد قرار دیتا ہے۔ بیس سال میں کچھ بھی تو نہیں بدلا ۔ آپ نے یہ ملک چھوڑنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا؟ میں نے اس صحافی دوست کو بتایا کہ 2007ء کی وکلاء تحریک کے دوران جب میرے بچوں پر سکول جاتے ہوئے حملہ کیا گیا تو میں نے بچوں کو تو پاکستان سے باہر بھیج دیا لیکن خود پاکستان میں رہا۔ مجھ پر پابندی لگ گئی لیکن میں نے پابندی کے خلاف مزاحمت کی اور کچھ ماہ کے بعد ٹی وی اسکرین پر واپس آگیا ۔ پھر میری گاڑی کے نیچے بم لگایا گیا، کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا اور توہین رسالت کے علاوہ قتل اور اغواء کے مقدمات میں پھنسایا گیا لیکن میں نے پاکستان چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ حکومتیں بدلتی رہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ ایسا بھی ہوا کہ جو مجھے غدار قرار دیتے تھے وہ کبھی ہلال امتیاز اور کبھی تمغہ امتیاز سے نواز کر اپنے موقف کی تردید بھی کرتے رہے۔ اصل طاقت تو اللہ کے پاس ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھیں تو عوام کی تائید و حمائت ختم نہیں ہوتی اس لئے مشکل وقت میں ساتھ دینے والےعام پاکستانیوں کو چھوڑ کر بیرون ملک جانے کے آپشن پر غور نہیں کیا لیکن اس بات کا بہت افسوس ہے کہ پچھلے بیس پچیس سال میں ایک نسل جوان ہو گئی لیکن ریاست دن بدن غداروں کی تعداد میں اضافہ ہی کرتی جا رہی ہے ۔ جو بھی اختلاف کرے یا اپنا حق مانگے وہ غدار قرار پاتا ہے۔ یہ معاملہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے آگے بڑھتا ہوا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پہنچ چکا ہے۔ ریاستی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اب پنجابی عصبیت کو ہوا دی جارہی ہے پنجاب حکومت ایسے لوگوں کی سرپرستی کررہی ہے جو سندھیوں اور پختونوں کی توہین پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر آپ مسئلہ فلسطین پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے موقف کی حمایت کریں تو پنجاب کے کچھ دانشور آپکو جذباتی اور گمراہ قرار دیدیتے ہیں۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کو سنبھالیں یا تمہارے فلسطین کو سنبھالیں؟ (بشکریہ جنگ)۔۔
