اسلام آباد میں عیدالفطر سے قبل متعدد نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف صحافیوں نے احتجاج کیا، جس سے پاکستان کے نشریاتی میڈیا کے شعبے میں جاری مالی بحران مزید نمایاں ہو گیا ہے۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے اراکین نے مختلف ٹی وی چینلز کے دفاتر کے باہر مظاہرے کیے، جن میں آج نیوز، اب تک نیوز اور سنو نیوز شامل ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عید سے قبل تمام واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دی گئی۔احتجاجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں تاخیر اب انفرادی نہیں بلکہ ایک وسیع اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو متعدد ٹی وی اداروں کو متاثر کر رہا ہے۔ صحافتی تنظیموں اور نیوز روم ذرائع کے مطابق مارچ کے وسط تک کئی اداروں کے ملازمین کو مکمل یا جزوی ادائیگیاں ہی کی گئی ہیں۔نیو نیوز کے ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہیں تاحال موصول نہیں ہوئیں، جبکہ لاہور رنگ کے ملازمین بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں کچھ افراد کو چار ماہ تک کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ اسی طرح 365 نیوز، اب تک نیوز، سنو نیوز اور بول نیوز سمیت دیگر اداروں نے فروری کی تنخواہیں ابھی تک جاری نہیں کیں۔ایک نیوز کے ملازمین فروری کی تنخواہ کے منتظر ہیں جبکہ دسمبر کی تنخواہ بھی جزوی طور پر ادا کی گئی ہے۔ آج نیوز کے ملازمین کے مطابق انہیں تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں، جبکہ ایک ملازم کے مطابق 12 مارچ کو دسمبر کی تنخواہ کا صرف نصف حصہ ادا کیا گیا، جبکہ جنوری، فروری اور مارچ کی ادائیگیاں تاحال باقی ہیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو نادہندہ چینلز کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس بائیکاٹ کے تحت نہ صرف ان چینلز کے نمائندوں سے بات چیت سے انکار کیا جائے گا بلکہ پارلیمنٹ، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، دفتر خارجہ اور اعلیٰ عدالتوں میں بھی ان کی نمائندگی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔دریں اثنا اطلاعات کے مطابق ڈان نیوز کے ملازمین کو بھی صرف نصف تنخواہ ادا کی گئی ہے، جو ادارے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ اے آر وائی نیوز کے تمام ملازمین کو بھی فروری کی تنخواہیں تاحال موصول نہیں ہوئیں۔یونین نمائندگان کے مطابق مختلف اداروں کی جانب سے عید سے قبل ادائیگی کی یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں، تاہم وعدے پورے نہ ہونے پر صحافیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بحران پاکستان کی ٹی وی نیوز انڈسٹری میں موجود ساختی کمزوریوں، غیر مستحکم آمدنی کے ذرائع اور کمزور لیبر قوانین کو ظاہر کرتا ہے۔ تنخواہوں میں تاخیر نہ صرف صحافیوں کی مالی حالت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ان کے پیشہ ورانہ حوصلے اور ادارتی خودمختاری پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
