سینئر صحافی، کالم نویس اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بلّھے شاہ کے زمانے میں بھی سچ بولنے والوں کو دھکّے کھانے پڑتے تھے اور جھوٹ بولنے والے خوشامدی بڑوں کی محفل کا حصہ بنتے تھے کنگلے، علم و دولت سے خالی، آگے آگے ہو کر بیٹھتے تھے اور بیک بنچر یاپیچھے بیٹھنے والوں کو فرش کے کونے میں جگہ ملتی تھی۔ جنگ میں اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ آج جھلّے شاہ کے دور میں بھی کچھ نہیں بدلا آج کے بہادر بھگوڑے ، پچھلے دور میں مقتدرہ کے چمچے اور کانٹے تھے انہی کے کہنے پرنو کریاں لیتے، بغیر میرٹ کے بڑی بڑی تنخو اہیں پاتے اور مقتدرہ کی طرف سے سیاستدانوں، صحافیوں اور جمہوریت کیخلاف دی گئی کہانیاں کرپشن کےخلاف جہاد کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اب یہ سب مانتے ہیں کہ ہم جھوٹے کاغذوں کی مدد سے جعلی کہانیاں بنا کر جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرتے رہے ہیں۔ دلچسپ امریہ ہے کہ کل تک جمہوریت پر تیر برسانے والے آجکل جمہوریت کے چیمپئن بنےہیں۔ واقعی’ الٹے ہور زمانے آئے‘، جمہوریت کے دشمن بھی یہی تھے اور آج کل جمہوریت کے سجن بھی یہی ہیں۔ کل تک یہ میڈیا کی آزادی کیخلاف تقریریں کیا کرتے تھے آزاد صحافیوں کو لفافہ کہہ کر اور جھوٹی کہانیاں سنا کر ان کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ۔حامد میر کو گولیاں لگیں تو یہی صاحبان اسے پلاسٹک کی گولیاں کہہ کر مذاق اڑایا کرتے تھے ایک میڈیا مالک کو جیل بھیجا گیا تو یہ اس کے حق میں دلائل دے کر ثابت کرتے رہے کہ صحافیوں کا اصل مقام تو جیل ہے ،احمد نورانی کو مارپڑی تو کہتے تھے لڑکی کا چکر ہے صحافت کا مسئلہ نہیں، یہی وہ لوگ ہیں جوکہتے تھے میڈیا کی آزادی، ریاست کے مفادات سے بڑی تو نہیں، یہی بیان دیا کرتے تھے کہ آزادی بے لگام نہیں ہوتی۔ اب یہ سب بہروپئے میڈیا پر پابندیوں پر آنسو بہانے اور آہ و زاری میں شریک ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں تب بھی درست مانا جاتاتھا اور اب بھی درست مانا جائے، یہ تب بھی سچے تھے اور آج بھی سچے ہیں، یہ مقتدرہ کے ساتھ ہوں تو مقتدرہ اچھی ہوتی ہے اسکے ظلم اور پابندیاں حلال ہوتی ہیں یہ مقتدرہ کے خلاف ہو جائیں تو مقتدرہ بری ہوتی ہے اس کے ہر عمل کو ظلم اور اسکی ہر پابندی کو حرام قرار دیا جائے یعنی اصول ان کیلئے موم کی ناک ہیں جو ان کی مرضی سے اپنارخ بدل لیں۔ واقعی الٹے ہور زمانے آئے۔۔
