پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے زیر ا ہتمام سندھ میں مختلف یوجیزکے عہدیداروں نے دادو اور سیہون کے بول نیوز کے نمائندے یاسر شورو اور جی این این کے نمائندے شاہد تھہیم کیخلاف ایس ایس پی جامشورو کی ایماء پر دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائے اور اس میں ملوث پولیس افسران کیخلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے سینئر نائب صدر ناصر شیخ، ایف ای سی ممبران عبداللہ سروہی، عمران پاٹولی، بلال قریشی ، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عرفان آرائیں، جنرل سیکریٹری امجد اسلام، مٹیاری یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عبدالغفور میمن، جنرل سیکریٹری دین محمد بلوچ، میرپورخاص یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے شاہد جمیل، جنرل سیکریٹری سلیم شعاعی، ٹنڈوالہیار یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عزین خانزادہ ، شہید بینظیر آباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر بلال قریشی، سرپرست اعلیٰ نیک محمد ، سانگھڑ یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر ظفر مغل، جنرل سیکریٹری منور شاہین، بدین یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر مرتضیٰ میمن، جنرل سیکریٹری ناصر جٹ، ٹھٹھہ یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر جاوید لطیف میمن ، جنرل سیکریٹری اشرف میمن، عمرکوٹ یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر راشد قائم خانی، جنرل سیکریٹری ولی محمد ، جیکب آباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عبدالحفیظ جتوئی ، نوشہروفیروز یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عابد طور نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاکہ سندھ پولیس بے لگام ہوچکی ہے کچے کے ڈاکو محب وطن ہیں صحافی، وکلائ، سیاسی و سماجی رہنما دہشت گرد بنادیئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عدالت کے احاطے میں ایس ایس پی جامشورو سے جعلی پولیس مقابلے کے بارے میں سوال کرکو نا دہشت گردی بنادیا گیا ہے، خود پولیس سندھ بھر میں جعلی پولیس مقابلے اور جرائم کی سرپرستی کررہی ہے لیکن ان کو آئینہ دکھانے والے دہشت گرد قرار دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ وفاقی و صوبائی حکومت صحافیوں کو انصاف اور تحفظ فراہم کرے کیونکہ اس کی صورتحال دور آمریت میں بھی صحافیوں کے ساتھ نہیں ہوئی جو اب ہورہی ہے۔
