چھ سال سے بول نیٹ ورک سے وابستہ بول انٹرٹینمنٹ کا واحد رائٹر اور کانٹنٹ ہیڈ بھی بول چھوڑ گیا۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ ۔۔بول انٹرٹینمنٹ کا واحد رائٹر اور کانٹنٹ ہیڈ بول کی نئی انتظامیہ سے تنگ آکر بول چھوڑ گیا۔۔ واضح رہے کہ انہوں نے بول ری لانچ کے وقت بول انٹرٹینمنٹ کو بطور شو رائٹر جوائن کی اور پوسٹ کووڈ اپنے ڈپارٹمنٹ پریزیڈنٹ کے مشورے پر انکو انٹرٹینمنٹ کا کانٹنٹ ہیڈ ترقی دی گئی تھی، کووڈ اور لاک ڈاون سے پہلے انکی اپنی چھوٹی سی ٹیم بھی تھی تاہم ڈاون سائزنگ کے بعد وہ اکیلا رہ گیا۔ انہوں نے اکیلے ہی تمام شوز کا کانٹنٹ نا صرف لکھا بلکہ اس بیچ ہر سال کی رمضان اور دیگر اسپیشل ٹرانسمیشن بھی لکھتے رہے، لکھنے کے ساتھ ساتھ پورے انٹرٹینمنٹ ڈپارٹمنٹ کا گیسٹ لائن اپ، کارڈینیشنز بھی یہی کرتے تھے کیونکہ شوبز میں نا صرف یہ، انکے بہن بھائی بلکہ انکے خاندان کے کافی جانے پہچانے لوگ موجود ہیں جس کی وجہ سے میڈیا، شوبز، نیوز اور خاص کر میڈیا بائینگ و ایڈورٹائزنگ میں انکی کافی جان پہچان ہے۔ احمد علی بٹ ، رمیز واجہ، ثقلین مشتاق، فیصل قریشی یہاں تک کے علی ظفر تک کو چینل میں یہی پروگرامز میں لائے اور صرف انٹرٹینمٹ ہی نہیں بلکہ نیوز اور مارکیٹنگ کو بھی جہاں کہیں ضرورت پڑتی تو انکے ہی تعلقات اور لائن اپ کام آتے تھے۔جب نئی مینجمنٹ بول آئی تو وہ ایک ایک کرکے ٹیمز سے ملاقاتیں کر رہی تھی، تمام ہی ڈپارٹمنٹ کو اپنی اپنی پوزیشن اور فیوچر پلاننگ کا موقع دیا گیا تھا ، یہ سیشن بول آڈیٹوریم میں خود بول کی موجودہ کرتا دھرتا اور انکی ٹیم کی سربراہی میں کیا جارہا تھا جہاں بول انٹرٹینمنٹ کی پریزنٹیشن بھی انہی صاحب نے اپنے ڈپارٹمنٹ پریزیڈنٹ شاہزیب کے ساتھ دی تھی اور وہ سیشن ایسا گیا تھا کہ بول کی خاتون مالکن تک حیران ہوئی اور یہاں تک کے اس سیشن کو بول آڈیٹوریم میں ریکارڈ کرنے والی ٹیکنیکل ٹیمز تک نیچے آکر شاباشی دے رہے تھے۔یوں لگ رہا تھا جیسے بول کا کم از کم انٹرٹینمنٹ ڈپارٹمنٹ اپنے پیروں پہ کھڑا ہے۔یہاں تک کے انہوں نے ہی سمیر چشتی کا بول میں ہونے والا واحد سیشن بھی لکھا اس سیشن کے بعد سمیر چشتی نے بھی واٹس ایپ پر انکو شاباشی دی اور انکے باس شاہزیب کو بھی الگ سے ویل ڈن کا میسج کیا۔ تعریف کے بعد اب ذرا انکے کچھ مسائل پر بھی نظر ڈالیں تو یہ مستعفی کانٹنٹ ہیڈایک رائٹر ہونے کے ناطے دفتر میں آنے جانے اور رہنے کے اوقات میں مسائل کا شکار اکثر رہتے تھے اور زیادہ تر گھر سے یا رات گئے اسکرپٹنگ پہ کام کیا کرتے تھے، یہ سیٹلمنٹ انکی جوائننگ کے وقت زیر بحث بھی آیا تھا لیکن اس وقت کی انتظامیہ نے انہیں یہ اجازت دے دی تھی کیونکہ اس وقت انٹرٹمنٹ کے ڈائریکٹرز اور رائٹرز کا دفتر میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کا رول نہیں تھا، یہ سیٹلمنٹ انکا نئی انتظامیہ کی نئی ٹیم کے ساتھ زیادہ نا چل سکا اور شکایت کے بعد، تنخواہ میں کٹوتی بھی شروع کردی تھی تاہم ایڈمن اور ایچ آر کے بار بار بلانے اور تنبیہ کرنے پر ۔کانٹنٹ ہیڈ نے خود ہی ریزائن کرکے اپنی راہ نیٹورک سے جدہ کرلیں۔پپو کا کہنا ہے کہ مستعفی کانٹنٹ ہیڈ فی الحال کسی چینل کو جوائن نہیں کررہے بلکہ فری لانس کام کرینگے لیکن دوسری طرف بول نیٹورک کے لئے بھی لمحہ فکر ہے کہ اس طرح سب کو جانے دیتے رہیں گے اور مارکیٹ سے کوئی نامور شخص بھی ہائر نہیں کریں گے تو چینل کیسے چلے گا؟ نئی منجمنٹ بھی پرانی کی طرح ہی اس شعبے میں نئی ہی ہے اور وہ بھی وہی غلطیاں کر رہی ہے جو آج سے پہلے اس نیٹ ورک کا مقدر رہی ہیں شاید۔۔
