mulk mein sahafat ko jurm banadia gya

بغیر مقدمہ چلائے صحافیوں کی گرفتاری عوام کی آواز دبانے کی وجہ قرار۔۔

کراچی پریس کلب نے بنگلہ دیش میں بڑے میڈیا اداروں بالخصوص پرتھم الو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر بڑھتے ہوئے پُرتشدد حملوں، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے، سینئر صحافی اور نیو ایج کے ایڈیٹر نورالکبیر کو ہراساں کیے جانے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیاہے۔کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ،سیکرٹری سہیل افضل خان نے ان اطلاعات پر نہایت فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک 100 سے زائد صحافیوں کو بغیر کسی شفاف عدالتی عمل کے سنگین الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ بغیر مقدمہ چلائے صحافیوں کی گرفتاری خوف کی فضا پیدا کرتی ہے اور عوام کی آواز کو دبانے کا باعث بنتی ہے۔ کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست تمام صحافیوں کو فوری اور بغیر کسی شرائط کے رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک آزاد، خودمختار اور باہمت صحافت ہر جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ تشدد، قانونی دباؤ یا ہراسانی کے ذریعے میڈیا کو خاموش کرانے کی کوششیں بنیادی انسانی حقوق، آئینی حقِ آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔بنگلہ دیش میں اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر، کراچی پریس کلب متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا کہ وہ میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ان حملوں کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائیں۔ کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ جمہوری اقدار کے مزید زوال کو روکنے کے لیے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں