سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی ملازمین کے خلاف مقدمہ کا معاملہ۔۔اسپیشل جج سنٹرل ہمایوں دلاور نے سابق ڈائریکٹر چائنہ ڈیسک ڈاکٹر فرقان راؤ کی ضمانت منظور کر لی،عدالت نے ایف آئی اے کے انویسٹی گیشن افسر پر اظہاربرہمی بھی کیا۔۔ اسپیشل جج سینٹرل نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کو کس بنیاد پر مقدمہ میں شامل کیا گیا؟کیا کوئی رقم کی ٹرانزیکشن موجود ہے؟تفتیشی افسرنے جواب دیا کہ ایک ملازم کے بیان پر ڈاکٹر فرقان راؤ کو مقدمہ میں شامل کیا گیا۔اسپیشل جج نے دوبارہ سوال کیا کہ ۔۔افسر کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم منتقل ہوئی؟ تفتیشی افسر نے کہا، ڈاکٹر فرقان راؤ کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی،اسپیشل جج نے پھر پوچھا کہ کیش وصولی کا کوئی بلیک اینڈ وائٹ ثبوت ہے؟تفتیشی افسر نے اس بار بھی نفی میں جواب دیا۔ جس پر عدالت نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے ایک بیان کی بنیاد پر افسر کو مقدمہ میں شامل کر لیا گیا۔کیا فرقان راؤ کے خلاف مقدمہ اے پی پی کے کہنے پر دیا ہے،سماعت کے دوران ڈاکٹر فرقان راؤ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آفس میں تشدد پر میرے موکل نے گزشتہ سال مارچ میں ایک مقدمہ درج کروایا،جس انکوائری کی بنیاد پر میرے موکل کو شامل مقدمہ کیا گیا اس کمیٹی کا چیئرمین اور ممبر ایف آئی آر میں ملزمان ہیں،اے پی پی کی جانب سے مقدمہ میں نامزد کرنا ذاتی عناد اور بدنیتی ہے،میرے موکل نے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سیکشن میں کبھی سروس نہیں کی،تنخواہ کے علاوہ ایک پیسہ بھی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوا۔
اے پی پی کرپشن اسکینڈل، ڈاکٹر فرقان راؤ کی ضمانت منظور۔۔
Facebook Comments
