اے پی پی کا سینئر صحافی کے خلاف مقدمہ درج۔۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے صحافی اور یونین رہنما فرقان راؤ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس اقدام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔12 اگست کو ایف آئی اے میں درج ایف آئی آر میں راؤ پر ملازمین کی تنخواہوں کی خوردبرد کا الزام عائد کیا گیا، تاہم پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ راؤ کا مالیات یا اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یونین کے مطابق یہ مقدمہ دراصل 2024 کے سی بی اے انتخابات اور راؤ پر اے پی پی دفتر میں حملے کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے کا تسلسل ہے۔پی ایف یو جے نے کہا کہ ایف آئی آر ذاتی انتقام کا نتیجہ ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ وہ اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کریں۔آئی ایف جے نے فرقان راؤ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو یونین سرگرمیوں پر ہراسانی اور جھوٹے مقدمات کا نشانہ بنانا آزادی صحافت اور بنیادی حقِ انجمن سازی کے منافی ہے۔جرنلزم پاکستان کےمطابق ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) 12 اگست کو پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں فرقان راؤ کے خلاف درج کی گئی، جو اے پی پی میں بین الاقوامی امور کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ راؤ کا نام ایف آئی آر میں ایک مشکوک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر شامل کیا گیا، جس نے الزام لگایا کہ صحافی میڈیا ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں کی خورد برد میں ملوث تھے۔پاکستان کی یونینز اور میڈیا رہنماؤں نے اسے سیاسی انتقام کا واضح کیس قرار دیا ہے، جو فرقان راؤ اور میڈیا ادارے کے درمیان ایک طویل تنازعے کا تسلسل ہے۔ یہ تنازعہ 2024 میں اجتماعی سودے بازی کے ایجنٹ (سی بی اے) کے انتخابی نتائج سے جڑا ہے، جن کی اے پی پی انتظامیہ نے سخت مخالفت کی تھی۔ اُس وقت آئی ایف جے نے اس کیس اور 29 مارچ 2024 کو اے پی پی کے دفتر میں راؤ پر ہونے والے جسمانی حملے کی رپورٹ دی تھی۔ اس حملے کے بعد راؤ نے اپنے ایک مبینہ حملہ آور کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی۔ اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم پر بھی ایک اضافی بیان میں صحافی پر حملے کا الزام لگایا گیا۔بعد ازاں راؤ کو اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ملازمت سے برطرف کر دیا، تاہم انہوں نے مئی 2024 میں اپنی بحالی کے لیے اپیل دائر کی جو اب بھی وزارت اطلاعات کے پاس زیرِ التوا ہے۔ راؤ اس وقت آئی ایف جے کی الحاق تنظیم پی ایف یو جے کے ایک ایگزیکٹو ممبر ہیں۔پی ایف یو جے نے کہا کہ نام نہاد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم نے تشکیل دی تھی اور مبینہ طور پر اس میں وہ افراد شامل تھے جن کے خلاف راؤ نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ یونین کا کہنا ہے کہ راؤ کے خلاف موجودہ ایف آئی آر “بے بنیاد ہے اور حقائق سے بالکل لاتعلق ہے” کیونکہ اپنی مدت ملازمت کے دوران صحافی کا مالیات، آڈٹ یا اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کی ذمہ داریاں صرف چائنا نیوز سروسز اور انٹرنیشنل افیئرز کے ادارتی معاملات تک محدود تھیں۔ مزید یہ کہ اے پی پی کے ملازمین نے بھی ایف آئی اے کو حلف نامے جمع کرائے ہیں کہ انہیں اپنے عہدوں کے دوران پوری تنخواہیں ملی ہیں۔آئی ایف جے نے کہاکہ آئی ایف جے فرقان راؤ اور ان کی یونین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس معزز صحافی اور یونین رہنما کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ صحافیوں کو اپنی یونین سرگرمیوں پر ناحق مقدمات اور دباؤ کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بنیادی حقِ انجمن سازی کا حصہ ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں