اےآروائی ڈیجیٹل نیٹ ورک نے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’نکتہ ‘کے اکثریتی شیئرز حاصل کر لیے۔اب نکتہ اے آر وائی گروپ کے بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک کا حصہ بننے کے بعد اپنے دبئی ہیڈکوارٹر سے کام جاری رکھےگا۔نکتہ کے بانی اور صحافت میں بیالیس سال کا تجربہ رکھنے والے کامران خان اب اے آر وائی میں چیئرمین اے آر وائی نیوز اینڈ نکتہ کی حیثیت سے شامل ہو رہے ہیں۔اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے بانی اور اے آر وائی گروپ کے سی ای او سلمان اقبال نے کہا کہ میڈیا کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اے آر وائی ہمیشہ اس تبدیلی کے صفِ اول میں رہا ہے، نکتہ کو اے آر وائی ایکو سسٹم میں شامل کر کے ڈیجیٹل موجودگی کومضبوط کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اے آر وائی کی عالمی نشریاتی قیادت کوبھی وسعت دے رہے ہیں ہمیں یقین ہے یہ مربوط پلیٹ فارم ڈیجیٹل دور کیلئے مضبوط صحافت اور جدید انداز کی کہانیاں پیش کرے گا۔کامران خان کا نکتہ پر معروف پروگرام “آن مائی ریڈار ”جلد ہی اے آر وائی نیوز پر بھی نشر کیا جائے گا۔نکتہ کا آغاز نومبر 2024 میں کیا گیا تھا، اور اس نے خود کو ایک ڈیجیٹل فرسٹ جرنلزم پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ اس کے مختلف مواد کے شعبوں میں نکتہ بزنس، نکتہ کرائم اور نکتہ لائف شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں جلد توجہ حاصل کر لی تھی کیونکہ اس نے تجربہ کار صحافیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا اور ڈیجیٹل ویڈیو مواد اور تجزیاتی پروگراموں پر توجہ دی۔نکتہ کے حصول کے ذریعے اے آر وائی کو ایک قائم شدہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اداراتی ٹیم مل جاتی ہے، جبکہ نکتہ کو نیٹ ورک کے پروڈکشن وسائل، اشتہاری روابط اور تقسیم کے نظام تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ انضمام 2025 میں مالی دباؤ اور ملازمین کی برطرفیوں کے بعد پلیٹ فارم کو ممکنہ طور پر زیادہ استحکام فراہم کر سکتا ہے۔(یہاں تک خبر اے آر وائی نیوز اور دیگر خبررساں سائٹس سے لی گئی۔۔ اس سے آگے پپو کی خبر شروع ہوتی ہے۔۔) پپو نے انکشاف کیا ہے کہ نکتہ اور اے آر وائی کے ملاپ سے بظاہر نکتہ ملازمین کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے، سارے فائدے ، مراعات اور عہدہ کامران خان کے حصے میں آیا ہے۔۔ پپو نے مزید بتایا ہے کہ نکتہ ملازمین اے آر وائی کے ادارے کاکارڈ استعمال نہیں کرسکیں گے۔۔ نکتہ ملازمین کو تنخواہ بھی نکتہ کی جانب سے ہی ملے گی، اے آر وائی سے تنخواہیں نکتہ کے اکاؤنٹس میں آئیں گی وہاں سے تنخواہیں ملازمین کو ٹرانسفر ہوں گی۔۔ پپو نے مزید بتایا ہے کہ کراچی میں نکتہ دفتر میں اے آر وائی کا بیورو آفس عید کے بعد شفٹ کردیاجائے گا۔ جب کہ لاہور اور اسلام آباد میں نکتہ کے دفاتر اے آروائی بیورو میں شفٹ ہوجائیں گے۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ کامران خان نے اے آروائی سے انضمام کا اعلان زوم پر اپنے ملازمین سے کیا۔۔پپو نے یہ بھی بتایا ہے کہ اے آر وائی پر رات آٹھ بجے ہفتے میں پانچ دن کامران خان کا شو آن مائی ریڈار جلد آن ائر کیا جائے گا۔۔جب کہ اے آر وائی نیوز پر عرصہ دراز سے کاشف عباسی آٹھ بجے اپنا شو کرتے رہے ہیں لیکن وہ اب کچھ عرصے سے آف ائر ہیں۔۔ ان کی جگہ محمد مالک کو یہ شو کرنے کا کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد اب کامران خان آٹھ بجے شو کریں گے۔۔
