پپونے انکشاف کیا ہے کہ اے آروائی انتظامیہ نے ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود ورکرز کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔پپو کے مطابق اچانک انعامات کی بارش،سیلری میں خاطر خواہ اضافے،عمرے کے ٹکٹ،بونس کے اعلان اورچینل میں شیئرز دے کر مالکانہ حقوق سے نوازنے پرخبروں کے دوڑ میں سب سے آگے کے دعویدار اے آروائی چینل کی ساری خوشخبریاں ابھی صرف خبر کی ہی حد تک نظر آرہی ہیں ماسوائے ان کے جنہیں ایک ، دولاکھ نقد کچھ پرانے ورکرز کی عمرے پر روانگی اور کچھ کو شیئر سرٹیفیکٹ ملنے کے بعد معاملہ اچانک انتہائی سست روی کا شکار ہوچلا ہے ، پپو کے مطابق پینتیس افراد کو دو، دو لاکھ نقد دیئے گئے، عمرے والوں کو پیکیج دے دیا گیا مگر انکریمنٹ اور بونس کا کچھ نہیں پتا۔۔پپو نے بتایا کہ کئی ورکرز ایسے ہیں جو دانتوں میں انگلیاں دبائے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ۔۔ میں بولوں ؟ ۔۔کہ ۔۔ نہ بولوں ۔۔ ؟ اور اب تو یہ چہ مگوئیاں شروع ہوچکی ہیں کہ ادارے میں ہر دوسرا شخص تجھے کچھ ملا ۔۔؟ مجھے بھی نہیں ملا ۔۔؟ کی گردان کرتے دکھائی دیتے ہیں اور سب اس امید سے ہیں کہ اچانک خوشخبریوں کے اعلان کی طرح اچانک ایک صبح اٹھنے پر شاید میڈیا ورکرز کے اکاونٹ میں بونس اور تنخواہوں میں اضافے یہ خوشخبری جلد برآئے۔۔
