رؤف کلاسرا ٹھیک کہتے ہیں، ان کا پروگرام عمران خان کے زمانے میں بند ہوا تھا، اور فوجی افسروں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دباؤ پہ ایسا ہوا تھا۔ وہ بات غلط تھی – کلاسرا کے ساتھ زیادتی ہوئی۔۔مگر عمران خان کے دور میں ایسے واقعات اکا دکا ہوے! اب تو لاین لگی ہوئی ہے۔۔سینئر ٹی وی اینکر ڈاکٹر معید پیرزادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ۔۔! دو روزہ کانفرنس میں صدیق جان صاحب نے جب نامُ لے لے کر ایک فہرست گنوائی تو معلوم ہوا کہ ایک درجن سے بھی زیادہ صرف ٹی وی اینکرز اور تجزیہ کار ہیں جنھیں سکرین سے ہٹا دیا گیا ہے! نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں! اور موجودہ رجیم نے ایک بہت بڑی سوشل میڈیا ٹیم بنائی ہوئی ہے جس نے مختلف چیزیں ڈھونڈ کے بہت سے صحافیوں کے یوٹیوب بھی بند کروا دیے ہیں، جیسا کہ ہرمیت سنگھ نے کانفرنس میں بات کرتے ہوے بتایا۔ اور کاشف عباسی نے صرف پروگرام بند ہونے کا نہیں بتایا بلکہ کاشف نے بتایا کہ کیسے اس کے بینک اکاؤنٹ بند ہوے، ٹیکس کے گوشوارے کھول دئے گے، اور رشتے داروں تک کو ہراساں کیا گیا۔۔مگر خدا کا شکر ہے کہ کاشف کو گرفتار نہیں کیا گیا، دھشت گردی کے مقدمے نہیں بنے، سڑکوں پہ گھسیٹا نہیں گیا۔ جمیل فاروقی اور عمران ریاض سمیت کئی صحافیوں کو زدوکوب کیا گیا، عمران ریاض، صابر شاکر اور میرے سمیت درجنوں صحافیوں پہ جھوٹے مقدمے بنائے گے، انٹرپول تک کو لکھا گیا، عدالتوں سے انصاف کے راستے بند کر دیے گے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کر دیے گے، یوں کہیے کہ شہریت چھین لی گئی، آج بھی سہراب برکت اور کئی دوسرے صحافی جیلوں میں پڑے ہیں، عمران خان کے دور حکومت میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوا، اینکر، صحافی یا مدیر پہ حکومتی مقدمے کا کوئی تصور نہیں تھا، ارشد شریف کی طرح کے قومی شہرت کے قتل کا کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ جب ایجنسی نے مطیع اللہ جان کو اٹھا لیا تو عمران خان نے فورا جنرل فیض کو بلا کر کہا کہ اس قسم کی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔۔کلاسرا صاحب کی تحریر سے ایسا لگا جیسا نواز شریف اور عاصم منیر کا دور اور عمران خان کا زمانہ ایک طرح کے ہیں! کلاسرا صاحب ایک تجربہ کار صحافی ہیں، ان سے اتنی نا انصافی کی توقع نہیں تھی! بہت افسوس ہوا۔۔
