پاکستان میڈیا کونسل نے معروف صحافی اور اینکر ساجد حسین کو موصول ہونے والی قتل کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی سستی اور غفلت پر سخت برہمی ظاہر کی ہے۔ پی ایم سی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مقدمہ درج کر کے دھمکیاں دینے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔پاکستان میڈیا کونسل کے مرکزی کوآرڈینیٹر میاں خرم شہزاد اور پی ایم سی کراچی چیپٹر کے صدر محمد حسیب ، سیکرٹری جنرل ساجد احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ “اگر اس دوران ساجد حسین کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران اور سندھ پولیس پر عائد ہوگی۔ صحافیوں کی جان کو لاحق خطرات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔” ذرائع کے مطابق ساجد حسین نے دو ماہ قبل تھانہ شاہراہِ فیصل میں تحریری درخواست جمع کروائی تھی جس میں قتل کی دھمکیوں سے آگاہ کیا گیا تھا مگر تاحال پولیس کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ تفتیشی افسر اے ایس آئی رائے یعقوب کا مؤقف ہے کہ درخواست گزار دھمکیاں دینے والوں کے موبائل نمبرز فراہم کرے جس کے بعد کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم پاکستان میڈیا کونسل نے پولیس کے اس طرزِ عمل کو سراسر زیادتی، لاپرواہی اور پیشہ ورانہ غفلت قرار دیا ہے۔ پاکستان میڈیا کونسل کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کی نوعیت سنگین ہے اور پولیس کا فرض ہے کہ وہ درخواست موصول ہونے کے بعد خود تفتیشی عمل مکمل کرے نہ کہ متاثرہ صحافی پر مزید بوجھ ڈالے۔ پاکستان میڈیا کونسل نے ایس ایس پی ایسٹ، ڈی آئی جی ایسٹ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساجد حسین کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
