تحریر: عمران ملک۔۔
پاکستان کی سیاستی منڈی میں ایک اور نئی سیاسی جماعت لانچ ہو گئی ہے۔ اس بار لانچ کسی سیاستدان نے نہیں بلکہ ٹی وی کے سب سے زیادہ گھومنے پھرنے والے میزبان، اقرار الحسن نے کی ہے، جو اب کرائم سین چھوڑ کر سیاستی سین میں قدم رکھ چکے ہیں… اوہ معاف کیجیے، سیاسی سین میں۔
عوامی راج پارٹی کی رونمائی لاہور پریس کلب میں ہوئی، کیونکہ سیاستی تجربات کے لیے اس سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی ہو_ جہاں صحافی پہلے ہی درجنوں لانچز دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ نعرے بڑے تھے، سنجیدگی بھرپور تھی، اور عوام… حسبِ روایت غائب۔
سب سے پہلا سوال بہت سادہ ہے:
اقرار الحسن الیکشن کس حلقے سے لڑیں گے؟
دوسرا سوال تھوڑا مشکل ہے:
کیا وہ وہی سیٹ بھی جیت پائیں گے؟
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ایک خاص بیانیہ بڑی نفاست سے چلایا جا رہا تھا، شاید سیاسی پانی ٹٹولنے کے لیے۔ مگر پارٹی لانچ کچھ یوں لگا جیسے ایک پریس کانفرنس نے اچانک خود کو تحریک سمجھ لیا ہو۔
تاریخ، جو پاکستان میں خاصی سخت استاد ہے، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس سے پہلے گلوکار جواد احمد بھی مساوات پارٹی لانچ کر چکے ہیں۔ نیت اچھی تھی، جذبہ بھی تھا، مگر نتیجہ وہی نکلا جو عموماً نکلا کرتا ہے: ضمانت ضبط اور خاموش واپسی۔ پاکستان کی سیاست کوئی ریئلٹی شو نہیں جہاں ریٹنگ ووٹ بن جائے۔
اقرار الحسن، جو اپنی رپورٹس اور ذاتی زندگی دونوں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، اب ایک نئے امتحان میں ہیں: بغیر اسٹوڈیو لائٹس، بغیر تیار شدہ غصے، اور بغیر اسکرپٹ کے سیاست کرنا۔ کیونکہ سیاست، ٹی وی کے برعکس، ٹی آر پی پر نہیں چلتی۔
جب تک گراس روٹ سطح پر کارکن، واضح نظریہ اور عوامی مانگ نظر نہ آئے، عوامی راج پارٹی کا خطرہ یہی ہے کہ وہ بھی پاکستان کی اُن پارٹیوں کی فہرست میں شامل ہو جائے جن کا تعارف تو شاندار تھا، مگر سفر مختصر۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر اقرار الحسن، جواد احمد کی مساوات پارٹی میں اپنی پارٹی ضم کر دیتے تو شاید دو صفر مل کر ایک معقول عدد بن جاتا۔ کم از کم ضمانت تو بچ سکتی تھی۔
یا پھر ذرا تصور کیجیے ایک جین زی اتحاد کا:
اقرار الحسن، شاہد آفریدی، رجب بٹ اور ڈکی بھائی ; نظریے کے بغیر مگر فالوورز کے ساتھ۔ ایک ہیش ٹیگ، ایک پوڈکاسٹ، ایک یوٹیوب تھمب نیل، اور پاکستان کی پہلی الگورتھم سے منظور شدہ سیاسی جماعت تیار! شاید جین زی لمحہ بھر کے لیے پی ٹی آئی سے نظریں ہٹا لے… لمحہ بھر کے لیے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاست کوئی کولیب ویڈیو نہیں۔
سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ لانچ حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔ گہرے رنگ کے سوٹ، بھاری تقاریر، اور ایسے چہرے جیسے انقلاب ابھی بس آیا ہی چاہتا ہو۔ سردی بھی شدید تھی، اور مجمع بھی۔ شرکاء کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی باتیں۔
پاکستان میں سیاسی جماعتیں یا تو تحریک سے بنتی ہیں، یا قربانی سے، یا عوامی دباؤ سے۔ مانگ کے بغیر پروڈکٹ لانچ کرنا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے — خاص طور پر سیاست میں۔
بہرحال، وقت سب کچھ بتا دے گا۔ سیاست نے ہمیں پہلے بھی حیران کیا ہے۔
مگر فی الحال سیاسی جماعت عوامی راج کسی تحریک سے زیادہ ایک ایسے ٹریلر جیسی لگتی ہے جس کی فلم کا مطالبہ کسی نے کیا ہی نہیں۔
اور پاکستان میں، الیکشن فالوورز سے نہیں — ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں۔(عمران ملک)
