کراچی کے علاقے ملیر میں صحافی امیرالدین کے اغوا و تشدد کے واقعہ کے خلاف اندراج مقدمہ کیلئے دائر درخواست مقامی عدالت نے سماعت کیلئے منظور کرلی اور ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کی عدالت نے سعود آباد پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔۔عدالت نے تمام نامزد ملزمان اور ایس ایچ او سعودآباد سے پولیس رپورٹ اور تحریری جواب انتیس اپریل کو داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔۔سعود آباد پولیس رپورٹ جمع کرائے گی کہ 19 جنوری کو صحافی امیر الدین کو کس نے اغواء کیا اور اسکو اغوا کرنے کے پیچھے کونسے عوامل کار فرما تھے۔درخواست گزار صحافی امیرالدین نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسے سعود آباد تھانے کی حدود میں نادعلی اسٹاپ پر باس بریانی کے قریب سے اغواکیاگیا۔۔اغواء کار مغوی صحافی امیر الدین کو سعودآباد تھانے کی حدود میں قائم زکوة عشر کمیٹی کے دفتر گودام اسکول لیکر گئے تشدد کا نشانہ بنایا گن پوائنٹ پر ویڈیو بنائی گئی اور اسکو وائرل کیا گیا۔واضح رہے کی صحافی امیر الدین نے غیر قانونی بازار جو کہ ملیر کینٹ جانے والی ملٹری ٹرین کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا اسکی خبر ویڈیو کے ساتھ نشر کی تھی۔واقعہ کے بعد سعود آباد پولیس نے علاج معالجہ کے لئے میڈیکل لیٹر دینے اور اندراج مقدمہ سے انکار کردیا تھا۔
