ghair qanooni radio station chalane par FIR darj

اشتہارات کی منظوری سے پیمرا کا کوئی تعلق نہیں۔۔چیئرمین پیمرا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرپرسن پولین بلوچ کی زیر صدارت پیمرا ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 14 اگست کے اشتہارات سے قائداعظمؒ کی تصویر غائب ہونے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔چیئرمین پیمرا نے وضاحت کی کہ اشتہارات کی منظوری پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتی، البتہ شکایات موصول ہونے پر جائزہ لیا جاتا ہے۔پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت کے اشتہارات قائد کی تصویر کے ساتھ شروع ہوتے ہیں۔او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ویب ٹی وی کے قواعد و ضوابط پر بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مجوزہ سمری مسترد کر دی تھی لیکن ترامیم کے بعد دوبارہ بھیجی جائے گی۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس وقت او ٹی ٹی پلیٹ فارمز غیر ریگولیٹڈ ہیں اور ان پر قابل اعتراض مواد دکھایا جا رہا ہے، اس معاملے کو وزیر قانون کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اٹھایا جائے گا۔اجلاس میں معظم جتوئی نے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر غیر اخلاقی اشتہارات اور سوشل میڈیا پر غیر معیاری مواد کی نشاندہی کی، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈراموں اور اشتہارات میں ناقابلِ قبول مواد پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹک ٹاک پر جعلی مصنوعات کی پروموشن کے معاملے کو پی ٹی اے کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں