تحریر: محمد نواز طاہر۔۔
برصغیر کی پارلیمانی تاریخ میں اورقدیم اسمبلیوں میں پنجاب اسمبلی بھی سر فہرست ہے، اس کے بعد سندھ اور سرحد ( موجودہ کے پی کے ) اسمبلی قائم ہوئی ،قیام پاکستان کے بعد قومی اور چاروں سوبوں کی اسمبلیاں قائم ہوئیں ۔ پنجاب اسمبلی کے ساتھ ہی پریس گیلری بھی اس کا جزو لاینفک ہے جو عمارت کے ڈھانچے ور تاریخ کے اوراق میں محفوظ ملتی ہے ۔ وقت ک ساتھ ساتھ جیسے جیسے صحافیوں کی تعداد بڑھتی اور اتفاق و وقار گھٹتا گیا تو ماسوائے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے ، کوئی کمیٹی بہت زیادہ فعال نظر نہیں آئی ، بعد میںپارلیمان کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے کمیٹیاں اور تنظیمیں بنائیںجن میں مرکزی پارلیمان کور کرنے والے صحافیوں کی تنظیم پارلیمانی رپورٹرز ایسو سی ایشن بھی شامل ہے ۔ یہ اسمبلیاں اور جمہوریت و جمہوری ادارے ( جیسے بھی ہیں) کھلے دل یا دل پر پتھر رکھ کر ، تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ برطانوی سرکار کی دین ہیں ، اسی سرکار نے پارلیمان کے ساتھ پریس گیلری بھی بنائی اور کمیٹی بھی فعال رہی لیکن کچھ عرصے سے لاہور کے کچھ صحافیوں کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن میں کشش محسوس ہونے لگی اور اب اس کشش کے تابع پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کا نام تبدیل کردیا گیا ہے ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس( پی یو جے ) کا نام بھی لاہور یونین آف جرنلسٹس ( ایل یو جے) میں تبدیل کرکنے کیلئے کوشاں رہے ہیں ، نام کی تبدیلی ان لوگوں کی خواہش بھی ہم محسوس کرتے رہے ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے اور ایک خاص طبقہ ہے جو اصل اور قدیم نام تبدیل کرنے کا خواہاں ہے یہی صورتحال بھارت میں مودی سرکار کی ہے یعنی اس لحاط سے دونوں ہی ایک پیج پر دکھائی دیتے ہیں اور کا کھلے عام ذکر مذہب سے جوڑتے ہیں حالانکہ یہ تاریخ کو مسخ( بھلانے کی کوشش) کرنے والی بات ہے ۔ اس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ جناب وقت اور حالات ، تقاضے بدل گئے ہیں ، اس لئے نام تبدیل کرنا لازم ہوچکا ہے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کا نام ” پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری “ رکھ لیا گیا ہے اور جواز یہ بتایا گیا ہے کہ پریس کا لفظ تب استعمال ہوتا تھا جب ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا، اب پہلی کلاس کا بچہ بھی جانتا ہے کہ پوری دنیا میںریڈیو ( برصغیر سمیت ،جب اسمبلیاں بنیں ) وجود رکھتا تھا ، وقت کے ساتھ نیوز ایجنسیاں بھی فعال تھیں جو پرنٹنگ پریس میں اپنا میٹریل چھاپ کر نہیں مواصلاتی نظام کے ذریعے مسلسل فعال رہتی اور مواد فراہم کرتی رہتی تھیں ، اخبار کا دفتر تو بند ہوجاتےا تھا لیکن نیوز ایجنسیوں کے دفاتر تو چوبیس گھنٹے فعال رہتے تھے ، یہ ڈیجیٹل سسٹم تھا، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ٹیلی ویژن بھی شامل ہوگیا ، پھر” پریس “کے بجائے” میڈیا“ کا لفظ استعمال کیوں نہیں کیا جاتا رہا ؟ ادارے بڑھ گئے ہیں ، آبادی برھ گئی ہے تو ان کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ آبادی تو کارکنوں کو بے کار کرنے سے برھی ہے ، اداروں کو نچوڑ اور سکیڑ کربڑھائی گئی ہے ، رقبے اور آبادی کا ذکر کریں تو شہروں کا جغروفیہ ، حدود اربع تبدیل ہوچکا ہے ، کسی زمانے مین کراچی الگ اور ملیر الگ الگ تھے ، لاہور ، شاہدرہ اور بادامی باغ الگ الگ تھے ، رائے ونڈ ، کاہنہ ، مانگا ، جلو واہگہ بھی الگ تھے ، اب یہ سارے لاہور کا حصہ ہیں تو کیا ان شہروں کے نام نئے شامل ہونے والوں کے ساتھ ملا کر تبدیل کردیے گئے ہیں ؟
پاکستان میں نجی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو ہی دیجیٹل میڈیا تصور کیا جاتا ہے بلکہ مسلط کیا جاتا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ”پریس“ متروک اور’ میڈیا ‘مقبول ہے ، اسی بنا پر پنجاب اسمبلی پریس گیلری کا نام تبدیل کیا گیا ہے جبکہ ایسی کوئی تبدیلی انگلستان اور ہندوستان جیسی جمہوری و اشاعتی و نشریاتی تاریخ رکھنے والے ممالک میں نہیں کی گئی ، نہ ہی پاکستان کے کسی پریس کلب کا نام ” میڈیا کلب “ رکھا گیا
ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے ؟ یہ ایسا کرنے اور کروانے والے جانتے ہیں جو بتانا نہیں چاہتے ، نہ بتائیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ، سبھی بخوبی جانتے ہیں کہ ملک میں ناموں کی تبدیلی اور علاقوں کا جغرافیہ بھی نصابی ضرورت کی طرح بدلا جاتا ہے ۔ درحقیقت میڈیا انڈسٹری میں تبدیلیوں کی تجربہ گاہ لاہور ہے ، بھلے اخباری کارکنوں میں کی ملازمت کا ٹھیکیداری نظام ہو ، یا چھانٹی کی تلوار کی دھار گردنوں پر چلا کر چیک کرنا مقصود ہو، اس کا بہترین مرکز لاہور اسٹیشن سمجھا جاتا ہے ، ناموں کی تبدیلی کیلئے بھی اس کی ابتداءلاہور سے کی گئی ہے اور مستقبل مین بہت سی مزید تبدیلیوں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں لیکن یہ بات بڑی واضح ہے کہ ان تبدیلیوں پر غور کرنے والوں کیلئے یہ سب کچھ بھونڈا پن اور مضحکہ خیز و بچگانہ عمل لگتا ہے ۔ ۔ مروجہ تنظیم یہی ہوتی ہے کہ صدر کے ساتھ نائب صدر اور سیکرٹری کے ساتھ اسسٹنٹ یا جوائنت سیکرٹی کی نشست ہوتی ہے ، اس نظم میںصدر کی غیر موجودگی میں یہ عہدہ( محدود مدت کیلئے ) نائب صدر سنبھالتا ہے اور سیکرٹری کی غیر موجودگی میں اسسٹنٹ یا جوائنت سیکرٹری یہ فرائض انجام دیتا ہے لیکن جو تبدیلی پنجاب اسمبلی پریس گیلری میں کی گئی ہے اس کا سارا سائیکل ہی تبدل ہوجاتا ہے ، یعنی صدر کی غیر موجودگی میں اس کے فرائض سیکرٹری انجام دے گا ، سیکرٹری کو اسسٹنٹ سیکرٹری اور اسسٹنٹ سیکرٹری کو جوائنت سیکرٹری منصبی کندھا فراہم کرے گا ، ترممیم عمل کے دوران اس بے ڈھنگی ترتیب کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن اس سے پہلے آئنی اصلاحاتی کمیٹی کے اراکین باہم کھسر ،پھسر بلند آواز مین کررہے تھے جو مسودہ دیا گیا ہے اس نے ایسے ہی منظور ہونا یعنی میٹنگ مین رائے دینے والوں کی گفتگو جائے بھاڑ میں ، ہونا وہی ہے جو طے شدہ ہے اور ایسا ہی ہوا ، ترمیمی منظوری چونکہ جمہوری طریقِ کار ے تحت رائے شماری سے ہوئی جسے قبول منظور کرنا جمہوریت کا تقاضا ہے بصورتِ دیگر۔۔۔ماننے والی کوئی بات نہیں ۔ جنہوں نے یہ سُر بنوایا ہے ، گوایا ہے ، اس پر نچوایا ہے ، وہ لطف اندوز ہورہے ہونگے کہ معاشرے کی رہنمائی کے دعویداروں شعور کا معیار کیا ہے ؟ یہاں کے ارسطو ، خوارزمی ، لقمان ، سینا ، نیوٹن، گراہم بیل ، لینن ، اقبال ، ماﺅ زے تنگ ، کارل مارکس وغیرہ دھرتی میں اختراع کے بانی ہیں باقی لوگوں نے علامتی طور پر صدیوں پہلے ان سے عقیدت کیلئے اپنے نام رکھے تھے اوروہ ان سب سے ٹیوشن نہیں پڑھ سکے تھے۔۔؟(محمد نواز طاہر)۔۔
