نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر اظہر جتوئی سیکرٹری نیز علی ، فنانس سیکرٹری وقار عباسی اور گورننگ باڈی ارکان نے ارشد شریف کے قتل کے کیس کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارشد شریف نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں صحافتی آزادی حق گوئی اور جرات مندانہ صحافت کی علامت تھے۔ ان کے قتل کا کیس بند کر نا صرف ایک صحافی کے ساتھ نا انصافی نہیں بلکہ آزادی صحافت پر کاری ضرب کے مترادف ہے، نیشنل پریس کلب کا مؤقف ہے کہ ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے تا حال کئی اہم سوالات تشنہ طلب ہیں۔ حقائق منظر عام اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائے بغیر کیس بند کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام صحافی برادری میں شدید تشویش اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دے رہا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور ایسے واقعات کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کرے۔ ارشد شریف جیسے سینئر اور باوقار صحافی کے قتل پر پردہ ڈالنے کی کوششیں نہ صرف نا قابل قبول ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ نیشنل پریس کلب کی منتخب قیادت نے مطالبہ کیا کہ ارشد شریف قتل کیس کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے ، آزاد اور خود مختار جوڈیشل کمیشن کے ذریعے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزادی جائے، انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل پریس کلب کی قیادت ارشد شریف کی فیملی کیساتھ کھڑی ہے، صحافی برادری ارشد شریف کے لیے انصاف کے حصول تک خاموش نہیں بیٹھے گی۔ نیشنل پریس کلب ہر فورم پر اس نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا اور صحافت کی آزادی ، حق اظہار اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اپنی جد و جہد جاری رکھے گا۔
