اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیےکمیشن تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی۔جسٹس انعام امین منہاس نے صحافی حامد میر کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی۔عدالت نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ از خود نوٹس کیس میں ہے ، سپریم کورٹ میں زیر التوا ہونے کی وجہ کیس میں کوئی حکم نہیں دے رہے۔جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ درخواست گزار کمیشن کی تشکیل کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔عدالت نے حکومت کو کیس سے متعلق پیشرفت سے درخواست گزاروں کو آگاہ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے حامد میر کی درخواست نمٹا دی۔یاد رہے کہ مقتول ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق اور سینئر صحافی حامد میر نے درخواستیں دائر کی تھیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ معاملہ از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، زیر التوا ہونے سے کیس میں کوئی حکم نہیں دے رہے، ڈائریکشن جاری کرنا اعلیٰ عدالت کے دائرہ اختیارمیں مداخلت ہوگا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ درخواست گزار یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے اٹھا سکتے ہیں، حکومت سمیت تمام فریقین کو کیس سے آگاہ رکھیں۔عدالتی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل پر 2022 کو ازخود نوٹس لیا، وفاقی حکومت نے 7 دسمبر 2022 کو اسپیشل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی۔فیصلے کے مطابق حکومت نے کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے لیے ایم ایل اے پت دستخط کیے، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کو کینیا میں تفتیشی کام کرنے کی اجازت ملی۔
