ارشدشریف شہید کی بیوہ جویریہ صدیق نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کے خلاف ہراسانی اور دھمکیوں میں شدت آ گئی ہے، جس سے ان کی سلامتی سے متعلق نئے خدشات جنم لے رہے ہیں، خصوصاً اس وقت جب وہ کینیا میں 2022 میں اپنے شوہر کے قتل کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں صدیق نے بتایا کہ نامعلوم افراد اسلام آباد میں ان کے گھر کے چکر لگا رہے ہیں، بار بار دروازے کی گھنٹی بجاتے ہیں اور ان کا نام لے کر پکارتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشکوک مرد ان کی گلی میں ان کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور ان کی نقل و حرکت کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں، جسے انہوں نے نہایت پریشان کن قرار دیا۔جویریہ صدیق کے مطابق ان واقعات نے خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے اور وہ خود کو اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں۔انہوں نے آن لائن بدسلوکی کی بھی نشاندہی کی اور الزام لگایا کہ ان کے خلاف کردار کشی اور جھوٹے الزامات پھیلانے کے لیے ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔ جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ یہ ڈیجیٹل حملے جسمانی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں، جس سے انصاف کے حصول کے دوران ان پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔جویریہ صدیق نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور بتایا کہ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ انہوں نے پاکستانی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے نتائج کا حوالہ دیا، جس میں قتل کو پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا گیا تھا، جبکہ کینیا کی ہائی کورٹ نے بھی اس قتل کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ان کے مطابق، ان نتائج کے باوجود کوئی ٹھوس احتساب سامنے نہیں آیا، جس کے باعث ارشد شریف کے خاندان اور حامیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ جویریہ صدیق نے ایک بار پھر قابلِ اعتماد تحقیقات اور بامعنی قانونی کارروائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ قتل کو تین سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف تاحال نہیں ملا۔
