امریکہ میں موجود صحافی احمد نورانی کا بھائی بازیابی کے 5 ماہ بعد پہلی بار منظر عام پر آگیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کی درخواست پر سماعت کے بعد والدہ کے ہمراہ میڈیا سے جذباتی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ” میرا بھائی کی صحافت سے کوئی تعلق نہیں مجھے باہر جانے کی اجازت دیں میں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں میرا فری لانس کام سات ماہ میں ختم ہو چکا میری زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے میں محمد علی ہوں میں الیکٹریکل انجینئر ہوں میرے ساتھ چھ سات ماہ پہلے جو کچھ ہوا وہ آپ جانتے ہیں میں صحافی احمد نورانی کا چھوٹا بھائی ہوں میرا احمد نورانی کے کام کے ساتھ ، صحافت یا کسی قسم کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں میں انجینئر کے طور پر کام کرتا رہا ہوں فری لانسر کے طور پر دو تین سال سے کام کر رہا ہوں میرے لاپتہ ہونے کی وجہ سے میرا سارا کام بہت زیادہ متاثر ہوا بند ہو گیا میری موبائل ڈیوائس جس میں پروفیشنل ڈیٹا تھا وہ بھی واپس نہیں کیا گیا میرے اکاؤنٹ بند کروا دئیے گئے پھر عدالت کے حکم پر کھولے تو کچھ وقت کے بعد دوبارہ بنک اکاؤنٹس بند کر دئیے گئے سعودی عرب کا ورک ویزہ لیا تقریبا 9 لاکھ روپے خرچ آیا ،میں نے ایک لاکھ روپے کا ٹکٹ بک کروایا ایف آئی اے کی جانب سے مجھے آف لوڈ کر دیا گیا ساڑھے آٹھ گھنٹے مجھے حراست میں رکھا گیا اداروں کے حوالے سے دھمکی دی گئی پہلے آدھے گھنٹے کے بعد اگلے آٹھ گھنٹے پانی تک مجھے نہیں دیا گیا پھر آف لوڈ کی اسٹیمپ لگا کر مجھے آف لوڈ کر دیا گیا (ہائی کورٹ میں پی سی ایل سے نام نکلوانے کے کیس کو) ابھی آگے سے آگے کیا جا رہا ہے میرا نام کیوں پی سی ایل پر ڈالا گیا مجھے بتایا جائے یہ مستقل ہراساں کرنا اور بلیک میلنگ ہے جو کچھ پہلے میرے ساتھ ہوا میں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا اس پر بات نہیں کروں گا میرے ساتھ جو ہوا اس کی وجہ سے ذہنی اور فزیکلی میں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا مجھے بتایا جائے ایسا ظلم میرے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے میرا درخواست ہے کہ میرا نام پی سی ایل سے ہٹایا جائے میرا کام پچھلے سات ماہ سے بند ہے اس ملک میں مجھے میری فیملی کو مستقل تھرہٹس ہیں مجھے مستقل ہراساں کرنے کا سامنا ہے میری فیملی کے بھی بنک اکاؤنٹس بند ہیں میں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اگر میں یہاں نہیں کرسکتا تو باہر جانے کی اجازت دی جائے ۔
