تحریر: ڈاکٹر فاروق عادل۔۔
کامران شاہد کے عید شو میں سینئر صحافیوں کو توہین آمیز خطابات دینے کا جو مقصد تھا، وہ حاصل کر لیا گیا۔ اب اس اداکارہ اور پروگرام کا نام ہر شخص کی زبان پر ہے۔ اخبارنئی بات شائع ہوا تو اس کے چیف ایڈیٹر نے مجھ سے کہا کہ اخبار کو مقبول بنانے کے لیے پرانے صحافیوں اور ماہرین ابلاغیات سے ملاقاتیں کر کے انھیں ایک رپورٹ پیش کروں۔ اس ضمن میں بہت سی ملاقاتیں ہوئیں لیکن استاذ الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد زبیری سے ملاقات یادگار رہی۔ زبیری صاحب اخبار جہاں کے کامیاب ترین ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ اس ہفت روزے کے علاوہ بھی کئی کامیاب میگزین کا اجرا ان کے کریڈٹ پر ہے۔ اس اعتبار سے ان کی رائے بہت اہم تھی۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ اخبار میں چند متنازع کالم نگار شامل کر لیے جائیں تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے ڈسکس ہونے لگے گا اور اس کی اشاعت میں اضافہ ہو جائے گا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ استاد محترم نے اس ضمن میں حسن نثار صاحب کا نام بھی تجویز کیا تھا جو اپنے ناپسندیدہ لوگوں دلچسپ اور بعض صورتوں میں تکلیف دہ خطابات دینے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ان کی گفتگو اور تحریر میں تلخی بھی بہت ہوتی ہے جسے معاشی نا ہمواری اور بالادست طبقات کی لوٹ مار کے باعث کسی بھی نا آسودہ سے سماج میں عمومی طور پر پسند کیا جاتا ہے۔کسی اخبار، ٹیلی ویژن شو، کالم یا وی لاگ کو مقبول بنانے کے لیے آج بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
کامران شاہد صاحب نے اپنے عید شو کی شہرت کے لیے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا وہ ماضی میں مقبولیت یا ریٹنگ کے لیے اس سے ملتے جلتے طریقے اختیار کرتے رہے ہیں۔ یہ طرز عمل صرف کامران شاہد نے ہی اختیار نہیں کیا، ٹیلی ویژن کے بہت سے اینکر بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔ مقبولیت کے حصول کا یہ آسان ترین راستہ ہے۔ کیا یہ مقبولیت دیرپا ہوتی ہے یا اس کے کچھ مضمرات بھی ہیں؟اس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے علم سیاسیات میں مختلف مفکرین کے نظریات کا مطالعہ یاد آتا ہے۔ ہم جس نظریے کا بھی مطالعہ شروع کرتے، بہت سود مند اور مناسب محسوس ہوتا لیکن جب اس کا تنقیدی مطالعہ کیا جاتا تو اس کے عیوب بھی سامنے آ جاتے۔ کچھ اسی قسم کا معاملہ مقبولیت کے حصول کے اس طریقے کا بھی ہے۔یہ عمومی مشاہدہ ہے کہ ٹیلی ویژن ہی نہیں اخبارات و جرائد بھی اپنی مقبولیت اور فروخت میں اضافے کے لیے سنسنی خیز مواد شائع کرتے اور چنگھاڑتی ہوئی سرخیاں لگاتے ہیں۔ ایک اسٹڈی کے مطابق 1953 سے لے کر آج تک ہماری صحافت کا یہ مقبول رجحان ہے۔ اس طرز عمل کو ابلاغی سائنس میں ابلاغی اضطراب( Media Malaise) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ابلاغی اضطراب کیا ہے؟ اس کی تعریف بہت جامع ہے۔ مختصر الفاظ میں جب کسی شخص کی مخالفت میں کوئی شخص Below the belt چلا جائے تو اس کے نتیجے میں اضطراب پیدا ہو جائے گا۔ اضطراب کی بہت سی شکلیں ہو سکتی ہیں جیسے کسی سیاسی اختلاف، کشیدگی، تصادم یا جرم کی واردات کو اس کی اصل نوعیت سے زیادہ کر کے بتانا یعنی اوور پلے کرنا۔اس طرز عمل کے اثرات دو دھاری تلوار کی طرح سے ہوتے ہیں۔ اطالیہ نژاد امریکی نظریہ ساز مفکر کرٹ لینگ اور ان کی اہلیہ گلیڈی اینگل لینگ نے ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں اس رجحان کا مطالعہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک تھیوری وجود میں آئی جسے نظریہ ابلاغی اضطراب یا میڈیا ملیس تھیوری کا نام دیا گیا۔ ان دو مفکرین کے ابتدائی کام کے بعد فرسٹ ورلڈ میں اس موضوع پر بہت زیادہ کام ہوا۔ اس کام کے نتیجے میں کئی چیزین معلوم ہوئیں۔معلوم ہوا کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں ہم جن لوگوں کو مطعون کرنا چاہتے ہیں، فوری طور پر تو انھیں کسی قدر شرمندہ کرنے کامیابی مل جاتی ہے لیکن بات یہاں رکتی نہیں بلکہ ریاست کے نظام پر انتہائی مہلک انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ عوام میں یہ تاثر پختہ ہو جاتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں۔ اس کی وجہ سے آئینی اور قانونی نظام کمزور ہوتا ہے اور طالع آزمائی کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ اس کا دوسرا اثر اس قسم کے پروپیگنڈا کا کیرئیر بننے والے ذرائع ابلاغ پر ہوتا ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ غیر پارلیمانی طرز عمل اختیار کر کے فوری طور پر تو توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ توجہ مستقل نہیں ہوتی۔ ایسے ذرائع ابلاغ بالآخر عوام کی نگاہ میں غیر معتبر ہو جاتے ہیں نتیجتاً ان کا اعتماد جاتا رہتا ہے۔پاکستانی ابلاغی منظر نامے کو دیکھیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس وقت عوام کی بے توجہی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہی بے توجہی ہے جس سے پریشان ہو کر صحافی برادری وہ راستہ اختیار کر لیتی ہے جس پر ان دنوں تنقید کی جا رہی ہے۔پاکستانی صحافت کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے لیکن صحافی برادری کی توجہ بدقسمتی سے ابھی تک اس جانب مبذول نہیں ہو سکی۔ وہ اگر اس جانب توجہ نہیں دیں گے۔ تو اس کے نتیجے میں ناظرین و قارئین کو متوجہ کرنے کے لیے کامران شاہد جیسے طریقےہی اختیار کرتے رہیں گے لیکن اصل مقصد حاصل کرنے کے بجائے صحافت کے زوال کی رفتار تیز کرنے میں حصے دار بن جائیں گے۔(ڈاکٹرفاروق عادل)۔۔
