معروف تجزیہ کار امیر عباس نے صحافی شہباز رانا کیخلاف مقدمے کی وجہ بتا دی۔امیر عباس کا ویڈیو بیان میں کہناتھا کہ صحافی شہباز رانا نے 10ستمبر کو خبر دی کہ پاکستان کا قرضہ ایک نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے، جون کے آخر تک ساڑھے 80ہزار ارب روپے ہو چکا ہے،ا س میں جولائی ، اگست شامل نہیں ہے،جون کے آخری تک پاکستان کا قرضہ ساڑھے 80ہزار ارب روپے تک جا چکا ہے۔امیر عباس کاکہناتھا کہ پاکستان کی ریاست نے روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے 25ہزار ارب روپے اضافی قرضہ لیا،حکومت نے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی خلاف ورزی کی،جو کہتا ہے کہ آپ پاکستان کے جی ڈی پی60فیصد سے اوپر قرضہ نہیں لے سکتے،حکومت اس سے بہت اوپر جا چکی ہے۔معروف تجزیہ کار کا کہناتھا کہ جو شخص ایسی خبریں لائے گا کیا وہ اس نظام کو برداشت ہوگا،جو زبردستی لوگوں کو اچھی اچھی خبریں دینا چاہتا ہے،شہباز رانا کیلئے وہ لوگ بھی بول پڑے ہیں جو کبھی کسی کیلئے نہیں بولے،چپ ہو کر ہونٹ سی کر بیٹھے تھے۔لوگ اٹھائے جا رہے تھے عمران ریاض، مطیع اللہ جان، اسد طور،ثاقب بشیر کسی کیلئےوہ نہیں بولے تھے،شہبازرانا کے واقعہ کے بعد وہ بھی بول پڑے ہیں، ان کی بھی بس ہو گئی ہے۔امیر عباس کاکہناتھا کہ شہباز رانا کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ایک خبر دی،کامرس کا رپورٹر ہمیشہ حقیقت پرمبنی خبر دیتا ہے،وہ ہماری طرح سیاسی رپورٹر نہیں ہوتا ہے،وہ نمبرز کیساتھ خبر دیتا ہے،ان کے خلاف بھی کیس بنا دیا گیا اور اب فرد جرم عائد ہونے تک بات پہنچ چکی ہے۔کہا گیا کہ شہبازرانا نے ایسی خبر دی جو حقائق کے برعکس ہے،یعنی جو صحافی فیکٹس کے خلاف خبر دے گا اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی،اب جس صحافی کے پاس حقائق ہوں گے وہ بھی خبر دینے سے ڈرے گا، اس کہتے ہیں خوف پھیلا دینا۔امیر عباس نے کہاکہ یہ سب کیوں ہوا،میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں صرف ایک وجہ سے ہوا، ہمیں اس سسٹم کو چلانا ہے،اس ہائبرڈ رجیم کو چلانا ہے اور ہائبرڈ رجیم کیخلاف سب سے بڑی سیاسی قوت عمران خان اور اس کی پارٹی کو اندر دبا کررکھا ہے،جو اس سسٹم کے چلنے میں رکاوٹ بنتا ہے چاہے عملی طور پر، اپنے قلم یازبان کے ذریعے ،ہمیں اس کو خاموش کرانا ہے،ہم نے اسے دبانا ہے۔
اب صحافی حقائق کے ساتھ خبردینے سے بھی ڈرے گا، امیرعباس۔۔
Facebook Comments
