اینکر پرسن محمد مالک کا کہنا ہے کہ ایک بہت ہی اہم میٹنگ ہوئی ہے جس میں دو تین بڑے فیصلے ہوئے ہیں۔ اے آر وائی نیوز پر اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فیصلہ یہ ہے کہ ہم پاکستان فرسٹ کا سنتے تھے لیکن اب سیکیورٹی فرسٹ ہوگا۔یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ حکومت سے خرچ کم کرنے کا کہا جائے گا کیونکہ جس دشمن سے ہمارا مقابلہ ہے وہ فوجی اعتبار سے ہم سے 10 گنا بڑا ہے جبکہ معیشت کے اعتبار ہم سے پانچ گنا بڑا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ چیزوں کو کافی سختی سے دیکھا جا رہا ہے جیسا کہ حکومت کی شاہ خرچیاں ہیں۔ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ پر بات ہوئی کہ ان کا ہر ایونٹ کروڑوں روپے کا ہوتا ہے۔ یہ شاہ خرچیاں رکنی چاہئیں۔یہ بھی بات ہوئی کہ اب این ایف سی میں ہر قیمت پر ایڈجسٹمنٹس ہونگی۔محمد مالک کے مطابق ایک جملہ اس میٹنگ میں یہ ادا ہوا کہ”فوج نے ڈیلیور کردیا ہے، اب سیاستدانوں کے ڈیلیور کرنے کا وقت ہے۔” یہ بھی بات ہوئی کہ اگر پاکستان نے ہارڈ سٹیٹ بننا ہے تو اسکو ہر معنیٰ میں ہارڈ سٹیٹ بنایا جائے گا۔
