آپ زمین بیچیں،  میڈیا ورکرزکا  مستقبل نہیں۔۔

تحریر: عمران ملک

پاکستان میں میڈیا کا نیا ہاؤسنگ پروجیکٹ “نکتہ” بھی آخر کار گر ہی گیا۔ جی ہاں، وہی نکتہ جس نے شروع میں لگژری آفسز، امپورٹڈ کرسیاں اور “ہم سب کو بدل دیں گے” جیسے نعرے لگائے تھے، اب 37 میڈیا ورکرز کو “رہائشی پلاٹ” سمجھ کر فارغ کر دیا ہے۔

ارے بھائی، حیرت کیسی؟ یہ تو وہی پرانا اسکرپٹ ہے جس میں روزنامہ جناح، ایک نیوز جیسے کردار پہلے ہی مار کھا چکے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ نام نیا ہے، انجام وہی پرانا — “پلاٹ ختم، چینل بند!”

بات سادہ سی ہے — جب کوئی شخص کروڑوں میں زمین خرید کر اربوں میں بیچتا ہے تو “صبر” اُس کے DNA سے غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہاؤسنگ اسکیم تو لانچ کر لیتے ہیں، لیکن میڈیا کو اسکیم ہی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کے نزدیک نیوز روم بس ایک نیا بلاک ہوتا ہے — جس کا افتتاح ہوتا ہے، افتتاحی چائے پیتے ہیں، اور چند ماہ بعد وہاں تالے لگ جاتے ہیں۔

پھر جب میڈیا کا جہاز ڈوبتا ہے، تو جنابِ مالک صاحب فرماتے ہیں:

“ہم میڈیا میں انقلاب لانے آئے تھے، مگر قوم تیار نہیں تھی!”

ارے حضور، قوم نہیں، آپ کی کیش فلو تیار نہیں تھی!

دوسری طرف ہمارے اطلاعاتی وزیر عطااللہ تارڑ صاحب بھی فوراً منظر پر آ گئے — جیسے کوئی سیریل میں آخری سین میں ہیرو انٹری دیتا ہے۔ فرمانے لگے:

“ہم تمام فارغ شدہ ملازمین کو وزارتِ آئی ٹی میں نوکریاں دیں گے۔”

بھائی صاحب، پہلے PTV کو تو “نمبر ون چینل” بنا لیں جس کے پاس فنڈز بھی ہیں، فیسلٹیز بھی، مگر ویژن کہیں پلاٹ فائلوں میں گم ہے!

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ڈویلپرز سمجھتے ہیں میڈیا بھی اُن کی ہاؤسنگ اسکیم کی طرح ہے، جہاں خبر نہیں، “پروجیکٹ لانچ” ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں بریکینگ نیوز آتی ہے، باؤنڈری وال نہیں۔

لہٰذا ایک بار پھر ڈویلپرز حضرات سے مؤدبانہ درخواست ہے:

جناب، آپ اپنی زمین بیچیں، فائلوں پر ٹائر لگائیں، مگر میڈیا کو اپنی ڈھال نہ بنائیں۔ میڈیا کوئی پلاٹ نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ اور یہ “پروجیکٹ” تبھی کامیاب ہو گا جب اس کی بنیاد سچ پر ہو — سیمینٹ پر نہیں۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا:

سچ فی مرلہ نہیں بکتا، مگر اس کا ایک گھر ضرور ہونا چاہیے۔۔( عمران ملک)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں