سینئر صحافی اور معروف میڈیا شخصیت آفتاب اقبال نے ایک نیوز کی مارننگ شوکی میزبان ایشال عدنان کے خلاف باقاعدہ قانونی نوٹس کے ذریعے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ان پر یوٹیوب پوڈکاسٹ میں اُن کے خلاف “بدنامی مہم” اور “سراسر توہین آمیز” بیانات دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔محمد علی اینڈ غیور ایڈووکیٹس، سولیسیٹرز اینڈ کارپوریٹ کنسلٹنٹس کی جانب سے جاری کیے گئے اس قانونی نوٹس میں اینکر ایشال عدنان پر یوٹیوب چینل “ان فولڈ پاکستان میں جواد یوسف کی میزبانی میں شرکت کے دوران “بے بنیاد، اسکینڈل زدہ اور بدنیتی پر مبنی” الزاماتِ “جنسی ہراسانی” لگانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اینکر کی جانب سے دیے گئے بیانات “مکمل طور پر غلط، بے بنیاد اور من گھڑت” ہیں اور یہ ایک “مکیاولیائی سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد صحافی کی “بے داغ شہرت کو نقصان پہنچانا” ہے۔ نوٹس میں آفتاب اقبال کی تصاویر اور “انتہائی قابلِ اعتراض” تھمب نیلز کے استعمال کو بدنیتی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نوٹس میں خاتون اینکر سے کہاگیا ہے کہ متعلقہ وڈیو کو فوری ہٹادیں، اس پلیٹ فارم پر جہاں بیانات دیئے گئے غیرمشروط عوامی معافی اور تردید جاری کریں، آفتاب اقبال کی شہرت اور ذہنی سکون کو پہنچے والے نقصان کے ازالے کیلئے ایک ارب روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔نوٹس موصول ہونے کے بعد 14 دن کے اندر اندر ان تقاضوں پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
