تحریر: امجد عثمانی۔۔
جنگ گروپ کے روزنامہ آواز کی بے رحمانہ بندش کے بعد یہ صحافتی حلقوں میں یہ سوال ایک بار پھر گونجا کہ کہا پرنٹ میڈیا کا دور گیا۔۔۔۔کیا اخبارات بند ہو جائیں گے؟؟؟تو عرض ہے کہ جب تک خبر ہے اخبارات سلامت رہیں گے۔۔۔جب تک نیوز سٹوری ہے نیوز چینل آن ائیر رہیں گے۔۔۔۔گویا اشاعتی اور نشریاتی ادارے کے خبر ہی آکسیجن ہے۔۔۔۔جب خبر نہیں تو ذرائع ابلاغ کا بھی دم گھٹ جائے گا۔۔۔لاہور پریس کلب کی لائبریری میں بیٹھے میرے ہاتھ یہ روزنامہ جنگ ہے۔۔۔۔بلاشبہ پاکستان کا سب سے بڑا اخبار۔۔۔۔14اگست 2025کے جنگ کے اس شمارے میں صفحہ اول اور آخر ملا کر ایک صفحہ بنتا ہے۔۔۔۔یعنی اشتہارات کی بھر مار ہے اور سیٹھ پھر بھی بھوکا ۔۔۔۔۔لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ اس ایک صفحے پر بائیس بائی لائن خبریں ہیں۔۔۔۔یعنی رپورٹر کے نام ساتھ شائع ہونے والی خبریں جنہیں Exclusive بھی کہا جاتا ہے۔۔یہی نوشتہ دیوار اور یہی مستقبل کا منظر نامہ بھی کہ خبر ہوگی تو اخبار چلے۔۔گا ورنہ ردی ٹھہرے گا۔۔۔ہاں خبر والے اخبار کا انداز بدل سکتا ہے ۔۔وہ ڈیجیٹل فارم میں ہو سکتا ہے لیکن پذیرائی وہی پائے گا۔۔۔۔۔اخبار نہیں ٹی وی چینل پر بھی جگالی نہیں بکے گی۔۔۔اخبارات تو پھری پون صدی جی گئے ۔۔۔صرف پندرہ بیس سال میں کتنے ہی ٹی وی چینل بھی ڈوب گئے۔۔وجہ ایک ہی ہے کہ ان کے پاس خبر نہیں تھی۔۔۔۔اس لیے وہ Bad newsبن گئے۔۔۔خبر رپورٹر دیتا اور نیوز روم اس میں رنگ بھرتا ہے۔۔۔جس ادارے کے پاس یہ شعبے ماٹھے ہونگے وہ بیٹھ جائے گا۔۔۔۔چاہے کتنے مہنگے اینکر ہائر کر لے۔۔۔۔۔دوسری اہم بات یہ کہ سرمایہ دار کسی شعبے کا بھی ہو کارکنوں کے لیے سرمایہ کاری نہیں کرتا ۔۔۔اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔۔۔یہی حال میڈیا کا ہے۔۔۔سیٹھ مافیا نے اخبارات اور ٹی وی چینل اپنے مفادات کے لیے لانچ کیے۔۔جس کو من مرادی نہیں ملی وہ برگشتہ ہوکر کسی اور طرف نکل گیا ۔۔۔اس لیے ناراضی والی کوئی بات نہیں۔۔ہاں معاملہ تب بگڑتا ہے جب سیٹھ سال ہا سال سے خون پسینہ ایک کرتے کارکنوں کو بیک جنبش قلم نوکری سے بھی نکالتا اور پھر واجبات دینے سے بھی انکار کرتا ہے۔۔۔۔جیسے روزنامہ آواز کے باب میں جناب میر شکیل الرحمان نے کہا اور آخر عدالت ان کے خلاف حرکت میں آگئی ہے۔۔۔۔۔!!!!(امجد عثمانی)۔۔
