وفاق نے میڈیا کو سوارب کی ادائیگی کی ہے،عطا تارڑ۔۔

 وفاقی وزیر اطلاعات عطا الله تارڑ نے کہا وفاقی حکومت وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے اخباری اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ پر جلدی عملدرآمد کرے گی کیونکہ یہ حکومت ایک متحرک پرنٹ میڈیا کی ترقی کو جعلی خبروں کے تدارک کیلئے ضروری بجھتی ہے۔ اے پی این ایس ایگزیکٹواراکین کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخباری صنعت کو در پیش ادائیگیوں کے مسائل کو حل کیا جارہا ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت نے میڈیا کو 100 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ ادائیگیوں اور اشتہارات کے حجم میں پرنٹ میڈیا کا حصہ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت اطلاعات اس امر کی بھر پور کوشش کرے گی کہ تمام واجبات با قاعدگی سے ادا ہوں اور کوئی بھی ادائیگی التواء کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام فریقوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو سنٹرل میڈیا لسٹ سے ڈمی اخبارات کو خارج کرنے پر غور کرے گی اس عمل سے باقاعدہ شائع ہونے والے اخبارات کے مالی حالات بہتر ہونگے ۔ انہوں نے اخبارات کو مشورہ دیا کہ پرنٹ میڈیا کو در پیش مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے اخبارات کو جدید طریقے اختیار کرتا ہوں گے۔ قبل ازیں وزیر اطلاعات کو اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی اور مجلس عاملہ کے اراکین نے اخباری صنعت کو در پیش مسائل سے آگاہ کیا، اراکین نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اگست 2023ء میں سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ کا اعلان کیا تھا لیکن اس فیصلہ پر یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا، اخبارات واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی ادائیگیوں میں بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیاکو مختص ہو جاتا ہے جبکہ اخبارات کو 20 فیصدے بھی کم حصہ ملتا ہے، انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ اشتہارات کے حجم میں پرنٹ میڈیا کیلئے موزوں حصہ مقرر کیا جائے ، اراکین نے اس مطالبہ کو ہرایا کہ پی آئی ڈی کے علاقائی دفاتر کو اپنے علاقے کا میڈ یا تجویز کرنے کا اختیار دیا جائے۔ سیکرٹری اطلاعات امبرین جان، پی آئی او مبشر حسن اور وزارت کے دیگر افسر عشائیہ میں شریک تھے جبکہ اے پی این ایس کی نمائندگی کیلئے سیکرٹری جنرل محمد اطہر قاضی، سیکرٹری فنانس نوید کا شف اور ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر اراکین شامل تھے۔ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا جس کی صدارت سینیٹر سر مدعلی نے کی راے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل محمد اظہر قاضی نے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اراکین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ طویل عرصہ سے زیر التوا واجبات کی جلد ادائیگی کی جائے تا کہ اخباری صنعت در پیش مالی بحران کا مقابلہ کر سکے۔ اراکین نے ڈی جی پی آر کی طرف سے پچھلی حکومتوں کے ادوار سے متعلق واجبات کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا ، اجلاس نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اے پی این ایس کے صدر کی قیادت میں ایک وفد صوبہ سندھ کے سیکرٹری اطلاعات سے ملاقات کر کے طویل عرصہ سے واجب الادانان بجنڈ اشتہارات کی جلد ادائیگی کا مطالبہ کرے گا۔ ایگزیکٹوکمیٹی نے ایڈور ٹائزنگ کمیٹی کی رپورٹ منظور کرتے ہوئے میسرز برانڈ اسپیکٹرم ( پرائیویٹ) لمیٹڈ لاہور کی عبوری ایکریڈیٹیشن کی منظوری دی۔ اجلاس میں فنانس سیکرٹری نوید کا شف ، جوائنٹ سیکرٹری محسن بلال محسن سیال (آفتاب)، بلال فاروقی ( آغاز ) عصر محمود بھٹی (ماہنامہ منشر لائن )، فوزیہ شاہین ( ماهنامه دستک) نجم الدین شیخ ( روزنامه دیانت )، جاوید مهر شمسی ( روز نامه کلیم )، امتنان شاہد ( روزنامہ خبریں ) ، بلال محمود (نوائے وقت) ، راسخ منیر (روز نامه مشرق پشاور )، عامر ملک (روز نامه مشرق کوئٹہ ) ، ایس ایم منیر جیلانی (روز نامہ پیغام )، عثمان مجیب شامی ( روزنامه پاکستان) فیصل زاہد ملک ( روزنامه پاکستان آبزرور ) خوشنود علی خان (روز نامہ صحافت )، ہمایوں گلزار (روز نامه سیادت)، عمران اطبر (روز نامه تجارت ) اور سید ہارون شاه (روز نامه وحدت ) شریک ہوئے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں