میرا معاملہ سلجھاتے سلجھاتے خاور خود بھینٹ چڑھ گیا، بہنوئی۔۔

ڈان نیوزکے رپورٹر خاور حسین کے بہنوئی محسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ 21 جولائی 2024 کو سانگھڑ میں ان کی دکان پر ایک ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا اور مزاحمت میں ایک ڈاکو کی ہلاکت ہوئی تھی۔ان کے مطابق اس مقدمے میں ان کے بھائی کو جیل ہو گئی جبکہ ان کے والد کا کاروبار ٹھپ ہو گیا اور وہ گھر آ گئے۔محسن کے دعوے کے مطابق جب انھوں نے دوبارہ چند ماہ بعد عدالتی اجازت سے کاروبار شروع کیا تو ’ہجوم اکٹھا ہوا اور ہمارا کاروبار بند کرا دیا۔‘ ان کے مطابق چار لوگوں نے پیٹرول ڈال کر ’ہماری دکان کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں انھیں اور ان کے خاندان کو دباؤ کا سامنا تھا۔محسن کے مطابق جب انھیں یہ علم ہو گیا کہ اب سانگھڑ میں کاروبار کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا ہے تو پھر وہ کاروباری مواقع کی تلاش میں لاہور آ گئے۔ محسن کے مطابق ’چار پانچ دن قبل میری خاور سے فون پر بات ہوئی اور وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ میں اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔محسن کے مطابق ’ہمارے تنازع کو حل کرنے کے لیے خاور نے سندھ کے سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں مگر اسے کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ان کے مطابق خاور نے کسی کو بتائے بغیر سانگھڑ جانے کا فیصلہ کیا۔ جب انھیں اس بات کا پتا چلا تو انھوں نے امریکہ میں مقیم خاور کی ماں سے فون پر بات کی اور انھیں بتایا کہ ’خاور سانگھڑ چلے گئے ہیں۔‘ محسن کے مطابق ’خاور کی ماں نے کہا کہ نہیں وہ ابھی کراچی میں ہی ہیں۔محسن کے مطابق ’ایک گھنٹے بعد ہی انھیں یہ افسوسناک خبر ملی کہ میرے معاملے کو سلجھاتے سلجھاتے خاور خود اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ابھی سانگھڑ میں ’ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ خاور نے خودکشی کی ہے جو کہ حقائق سے منافی بات معلوم ہوتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں