کون سا چینل فروخت ہورہا ہے؟

کون سا چینل فروخت ہورہا ہے؟ کون سے چینل کے بکنے کی بات ہورہی ہے؟؟ منصور علی خان نے کس چینل کے حوالے سے ویلاگ کیا ہے جس میں انہوں نے ہفتے دوہفتے میں اس چینل کی ڈیل ڈن ہونے کی اطلاع دی ہے۔۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام کو جمعرات کے روز دن بھر اسی حوالے سے فون کالز موصول ہوتی رہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ معروف اینکر منصور علی خان کےاپنے ویلاگ کے حوالے سے ذرائع کو بتایا ہے کہ انہوں نے سما ٹی وی کے حوالے سے بات کی ہے، جس کا سودا پانچ اگست تک ڈن ہوجائے گا اور اسے خریدنے والے ڈائیوو کمپنی والے ہیں جو اس سے پہلے بول ٹی وی خرید چکے ہیں۔۔ لاہور کی میڈیا انڈسٹری میں دن بھر خبر گرم رہی کہ  سنو ٹی وی کا سودا ہورہا ہے، جب کہ کراچی میں یہ افواہ گردش کرتی رہی کہ بول ٹی وی کا سودا ہوگیا ہے اور اسے شرجیل میمن نے خرید لیا ہے۔ پپو نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ سما ٹی وی کے حوالے سےجب  ان کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کے ایچ آر ہیڈاور چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کو اس بات کا کوئی علم نہیں، دوسری طرف نیوزروم کے علاوہ اعلیٰ عہدے پر فائز سما کے ایک عہدیدار نے عمران جونیئر ڈاٹ کام کو بتایا کہ سما کی فروخت ممکن نہیں جو چینل ٹاپ فائیو میں آرہا ہو،جس چینل میں ورکرز کو سال میں دو بونس دیئے جارہے ہوں اور سالانہ انکریمنٹ لگ رہا ہو، وہ چینل کیوں فروخت ہونے لگا؟؟ سنو ٹی وی کے حوالے سے پپو کا کہنا ہے کہ یہاں بھی ایسا کوئی سین نہیں۔ لاہور میں ایکسپریس کے سودے سے متعلق بھی خبریں گرم تھیں، لیکن پپو کا کہنا ہے کہ ایکسپریس کے مالکان جلد دو نئے چینل مارکیٹ میں لارہے ہیں، انہیں کیا ضرورت ہے وہ ایکسپریس کو بیچیں۔ نائنٹی ٹو چینل کا آڈٹ چل رہا ہے، اب یہ آڈٹ کیوں ہورہا ہے اس کا جواب دینے کے لئے کوئی دستیاب نہیں تھا لیکن ماضی قریب میں جب نیوزون اور بول ٹی وی فروخت ہوئے تھے تو پہلے ان کا اسی طرح آڈٹ کیا گیا تھا۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ بول ٹی وی کے حوالے سے بھی شرجیل میمن کے قریبی ذرائع نے تردید کی ہے انہوں نے بول ٹی وی نہیں خریدا البتہ بول کی بلڈنگ خرید لی  گئی ہے، جہاں شرجیل میمن کے انگریزی چینل ایشیا ون، سندھی چینل آواز اور اردو چینل تھری سکسٹی فائیو کو جلد شفٹ کیا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پانچ اگست کو کس چینل کا نام سامنے آتا ہے؟ پپو کا مزید کہنا ہے کہ پیمرا کے ذمہ داران بھی اسلام آباد میں اس حوالے سے خاموش ہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی چینل کے حوالے سے اس کی ملکیت کی تبدیلی کے حوالے سے اب تک کسی نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں