وزیراعظم عمران خان نے کچھ عرصہ قبل پراسرارطور پر غائب ہونے والے صحافی مدثر نارو کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو مدثر نارو کے اہل خانہ سے ملنے کا حکم دیا تھا۔ملاقات میں مدثر نارو کے ماں ،باپ اور بیٹے سمیت وفاقی وزیر شیریں مزاری اور دیگر افراد موجود تھے۔وزیراعظم نے مدثر نارو کے اہلخانہ کو مدثر کی بازیابی کے حوالے سے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی یقین دہانی کروائی۔واضح رہے کہ مدثر نارو چند سال قبل شمالی علاقہ جات سے غائب ہوگئے تھے اور اب تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے۔گزشتہ سماعت پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ اسلام آباد ہائیکور ٹ پیش ہوئے تھے ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ، لیکن ایسے کیسز میں ماں کا کردار نظر نہیں آتا ہے ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم لوگوں کےزندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں ،ایک بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور ریاست کا کردار وہ نہیں جیسے ہونا چاہیے ،جب کوئی عدالت میں کہتا ہے کہ میرا پیارا لاپتہ ہے تو اسے مطمئن کون کرے گا ؟، مجھے پتہ چلا کہ صحافی کی اہلیہ بھی کیس لڑتے لڑتے موت کی نیند سو گئیں ، اب اس بچے کو ریاست نےتومطمئن کرنا ہے۔شہریوں کو اغوا کرنا انتہائی سنگین جرم ہے، کسی پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو ریاست کا رد عمل کیا ہو گا؟ یقیناً پوری مشینری حرکت میں آجائے گی، ریاست کا رد عمل عام شہری کے غائب ہونے پر بھی یہی ہونا چاہیے،تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، سمریوں یا رپورٹس کی بات نہیں لا پتہ شخص کے بچے اور والدین کو مطمئن کریں،بچے کی دیکھ بھال اور متاثرہ فیملی کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہے ، کسی کو تو یہ ذمہ داری لینے ہوگی تو چیف ایگزیکٹو ذمہ دار کیوں نہ بنایا جائے ؟۔
