آئی ٹی این ای اسلام آباد نے جنگ ملازمین کے واجبات عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران جنگ انتظامیہ اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو اگلی پیشی پچیس مارچ کو ہر صورت پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔۔تفصیلات کے مطابق 05مارچ 2025 کو جناب چیرمین شاہد محمود کھوکھر صاحب کی زیرصدارت آئی ۔ٹی۔این۔ای اسلام آباد میں جنگ ملازمین کے واجبات عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی۔اس میں سب سے پہلے قمر شفیع صاحب نے چیئرمین شاہدمحمود کھوکھر صاحب کو کہا کہ جناب ہم کافی مہینوں سے آتے ہیں اور تاریخ لے کر چلے جاتے ہیں آگے کی کیا صورتحال ہے برائے مہربانی ہمیں وہ بتا دیں۔جس پر چیرمین جناب شاہد محمود کھوکھر صاحب نے سب سے تفیصلی طور پر اس پر بات کی سب نے بتایا کہ ہمارے فیصلوں کو آئے ہوئے چھ ماہ ہوگئے ہیں ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔دو ماہ ہوگئے ہیں ہمیں جنوری اور فروری کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ہمیں ویج بورڈ کے فیصلوں کے مطابق تنخواہیں دینا تو دور کی بات ادارہ جنگ ہمیں گورنمنٹ کی اعلان کردہ کم سے کم تنخواہ بھی نہیں دے رہا ہے جبکہ اعلان ہوئے 8 ماہ گزر چکے ہیں۔ اس حوالے سے راولپنڈی لبیر اٹھارٹی نے بھی ادارہ جنگ کو لیٹر جاری کر رکھے ہیں۔سب نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں پچھلے سال بھی ہمیں سحری اور افطاری الائونس کی مد میں پورے پیسے ادا نہیں کیئے گئے تھے اور اب بھی رمضان میں ہمیں سحری اور افطاری الائونس کی مد میں پیسے ادا نہیں کئے جارہے ہیں۔اس دوران جنگ انتظامیہ کی طرف سے ان کا وکیل کمرہ عدالت میں داخل ہوتا ہے ۔چیرمین شاہد محمود کھوکھر صاحب نے جنگ کے وکیل کو آڑے ہاتھوں لیا کافی سخت انداز میں سماعت کا آغاز کیا۔۔ سب سے پہلا سوال کہاں ہے جنگ منیجمنٹ آپ کو آج اُن کے ساتھ یہاں ہونا چاہیے تھا آپ کو پتہ ہونا چاہیے میں نے پچھلی بار آخری چانس دیا تھا ۔جس پر جنگ کے وکیل نے کہا جناب یہ زولفقار علی(ایڈوائزر ٹؤ سی۔ای۔او) کا میڈیکل سرٹیفیکٹ ہے ۔جس پر چیرمین شاہد محمود کھوکھر صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا کیوں ان کا پائوں بھاری ہو گیا ہے آج کی تاریخ کی وجہ سے۔چیرمین صاحب نے کہا جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں کیا آپ کو پتہ ہے ان کو ابھی تک جنوری اور فروری کی دو ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں ملی ہیں جبکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے۔جب تک ان لوگوں کو ویج بورڈ کے فیصلے کے مطابق تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں تب تک ان کو گورنمنٹ کی اعلان کردہ کم سے کم تنخواہ تو وقت پر لازمی دیں۔چیر مین صاحب نے سماعت کے دوران جنگ اخبار منگوا کر وکیل کو دیکھایا دیکھیں اخبار میں ہر پیج پر اشتہارات کی بھرمار ہے ابھی کچھ دن پہلے مریم نواز کا 60 صفحات کا سپلیمنٹ آیا تھا وہ کم سے کم چار کڑور کے قریب کا ہو گا۔ ادارے کے پاس پیسہ تو آرہا ہے پھر ان لوگوں کو تنخواہیں کیوں نہیں وقت پردی جا رہی ہیں۔پھر کیوں ناں جنگ اخبار کے تمام اشتہارات کو بند کروادیا جائے عدالت اس موقع پر سوموٹو ایکشن کا اختیار رکھتی ہے پھر آپ لوگ ہی خبریں لگوائیں کہ عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔۔چیر مین صاحب نے کہا پیر کو آپ میر شکیل الرحمن اور جنگ منیجمنٹ کے ساتھ دوبارہ آئیں میں مزید ٹائم نہیں دے سکتا ہوں جس پر جنگ کے وکیل نے کہا جناب عید کی بعد کی تاریخ دیں اتنی جلدی میرے لیے ممکن نہیں ہو گا چیرمین صاحب نے کہا میں کسی صورت عید کے بعد کی تاریخ نہیں دے سکتا ادارے جنگ کی زیادتیاں ان لوگوں کے ساتھ کافی زیادہ ہیں کیا ان لوگوں نے عید نہیں کرنی کیا ان کے بیوی بچے نہیں چیر مین صاحب نے کہا آپ جنگ مینیجمنٹ کو بولیں ہر صورت پہلے ان کی جنوری اور فروری کی تنخواہیں وہ بھی گورنمنٹ کی اعلان کردہ کم سے کم والی لازمی دیں اور 25 مارچ2025 کو ہر صورت میر شکیل الرحمن اور جنگ منیجمنٹ کے ساتھ یہاں پیش ہوں۔
