نجی ٹی وی چینل ہم ٹی وی کی صدر، ڈراما پروڈیوسر اور ماضی کی معروف ہدایت کارہ سلطانہ صدیقی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹی وی چینل پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں عورت کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتیں، تاہم اس باوجود کسی نہ کسی ڈرامے میں خاتون کو ایک آدھ تھپڑ لگ جاتا ہے۔سلطانہ صدیقی نے حال ہی میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر اور ٹی وی نیٹ ورک شروع کرنے سمیت دیگر معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔ڈراموں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سارے ٹی وی چینلز آگئے لیکن وہاں کام کرنے والے زیادہ تر ہدایت کاروں، پروڈیوسرز و لکھاریوں کے پاس زیادہ اچھا تجربہ نہیں تھا، انہوں نے لوگوں کو تیار کیا۔سلطانہ صدیقی نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے اور وہ اس کا دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ انہوں نے بہت سارے لوگوں کی تربیت کی اور اب ان کے ہی لوگوں کو دوسرے ٹی وی چینلز 2 لاکھ روپے کے معاوضے کے مقابلے 8 لاکھ روپے دے کر ان سے کام کروا رہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹی وی چینلز پر ایک ہی ہفتے میں 21 تک ڈرامے نشر ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ان کے مطابق جہاں ہفتے میں 21 ڈرامے نشر کیے جا رہے ہیں، وہیں کسی ایک آدھ ڈرامے میں عورت کو ایک آدھ تھپڑ لگ بھی جاتا ہے اور اتنے تھپڑ حقیقی زندگی میں بھی خواتین برداشت کرتی ہیں لیکن وہ اپنے ڈراموں میں عورتوں کو زیادہ تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتیں۔سلطانہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی، اصولوں اور یہاں تک کہان کے ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں بھی عورتوں کو تھپڑٓ مارنے کی اجازت نہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں متعدد لکھاریوں نے بتایا کہ وہ دوسرے ٹی وی چینلز والوں سے خود پوچھتے ہیں کہ آپ ڈرامے کی کسی بھی قسط میں پہلے وقفے سے قبل عورت کو کتنے تھپڑ مروانا چاہتے ہیں؟ ۔سلطانہ صدیقی نے کہا کہ دوسرے ٹی وی چینلز والے بھی سماجی مسائل کو دکھاتے ہیں لیکن وہ اپنے ڈراموں کے سماج میں بہتری اور شعور اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ہم ٹی وی پر ایک ہفتے میں 21 ڈرامے نشرہوتے ہیں، سلطانہ صدیقی۔۔
Facebook Comments
