pemra ka jhukao malikan ki taraf

توہین عدالت کیس،آزادی اظہاررائے کا اطلاق نہیں ہوتا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے  رانا شمیم توہین عدالت کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیاہے ۔تفصیلات کے مطابق تحریری حکم نامے میں بتایا ہے کہ عدالت مطمئن ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم پرمجرمانہ توہین کا کیس بنتا ہے اور ان پر7 جنوری کو فرد جرم عائد ہوگی، اٹارنی جنرل کو اس کیس کا پراسیکیوٹر مقرر کیا جاتا ہے۔عدالت کے حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ کیا گیا بیان حلفی کسی عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھا، بادی النظر میں خبرچھاپتے ہوئے مناسب احتیاط نہیں برتی گئی۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ انصارعباسی، عامر غوری نے جو موقف لیا اس کی توقع نہیں تھی، شروع میں عدالت سمجھتی تھی کہ رپورٹر اور ایڈیٹرز کا کردار صرف خبر چھاپنے کی حد تک ہے،انصار عباسی اورعامرغوری نے کہا کہ مفادعامہ میں خبرچھاپی، ایسا لگا کہ انصارعباسی اور عامرغوری بھی بیان حلفی کا متن درست سمجھتے ہیں۔عدالت نے یورپین کورٹس آف ہیومن رائٹس کے صحافیوں سے متعلق کیس کا حوالہ بھی حکم نامہ کا حصہ بناتے ہوئے کہا کہ اخبار میں رپورٹ کیا گیا بیان حلفی کسی عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھا، انصار عباسی اور عامر غوری نے جو موقف پیش کیا اس کی توقع نہیں تھی، بادی النظر میں خبر چھاپتے ہوئے مناسب احتیاط نہیں برتی گئی، شروع میں عدالت نے سمجھا رپورٹر اور ایڈیٹرکا کردار صرف خبر چھاپنے تک ہے، انصار عباسی اور عامر غوری نے کہا مفاد عامہ میں خبر چھاپی، ایسا لگا جیسے انصار عباسی اور عامر غوری بیان حلفی کا متن درست سمجھتے ہیں، جمہوری معاشرے میں شفاف ٹرائل کے حق کا تحفظ ضروری ہے، آزادی اظہار رائے کا اطلاق زیر التوا کیسز پر نہیں ہوتا، انصار عباسی اور عامر غوری نے جو موقف لیا اس کی توقع نہیں تھی وہ آزادی اظہار رائے کی حدود سے لاعلم ہیں۔۔

sentaalis ka pakistan | Javed Chaudhary
sentaalis ka pakistan | Javed Chaudhary
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں