تحریر:طحہ عبیدی
میں سوچ رہا تھا خاور حسین کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کروں ، ہنستے ، مسکراتے ، موج مستی کرتے خاور حسین سے ملاقات کرائوں مگر پھر فیصلہ کیا زندگی کا ایک رُخ تو دنیا نے دکھایا ہے اب زندگی کا درد بھی محسوس کیجئے۔لگژری لائف کی خواہش سب کو ہوتی ہے ، اینکر مرید عباس کو بھی یہ خواہش تھی ، اداکارہ حمیرا اصغر بھی یہ خواہش لیے دنیا سے چلی گئی ، صحافی خاور حسین بھی اس راستے پر گامزن تھا ، حیرانگی کی بات تو یہ تھی فیملی لاعلم رہی ، دوست یار خاور کا درد محسوس نہیں کر پائے یا پھر خاور لگژری زندگی میں اکیلا اکیلا بہت آگے نکل گیا جس کی واپسی بہت مشکل ہوچکی تھی یا میرے یار کو دنیا کی نظر کھا گئی ۔
خاور نے دوستوں کو رات ملاقات کا کہا اور شام کو اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہوگیا ، دوپہر 2 بجکر چالیس منٹ پر کراچی سے نکلا ، ساڑھے پانچ بجے حیدرآباد پہنچا ، تاج ہوٹل میں فریش ہوا اسی دوران گھر سے فون آگیا ، گھر کا پانی ختم ہونے والا تھا ، ٹینکر والے کو فون کیا ، پیسے ٹرانسفر کیے اور پھر سانگھڑ کیلئے نکل پڑا ، جھول سے سانگھڑ 20 سے 25 منٹ کا راستہ ہے ، خاور 2 گھنٹے تک کہیں نظر نہیں آیا تو خودکشی کے مقام “مرچی 360” کے اطراف کا جائزہ لیا گیا تو خاور تن تنہا گاڑی میں موجود تھا ، یہ دو گھنٹے خاور نے گزارنے کے بعد گاڑی اسٹارٹ کی اور 25 منٹ اپنا شہر سانگھڑ گھوما ، جہاں بچپن لڑکپن گزرا وہ دیکھا ، پرانا محلہ ، نیا محلہ ، گرائونڈ ، اسکول دیکھے اور پھر مرچی 360 کے سامنے پہنچ گیا ، کبھی فون پر باتیں کرتا ، فون رکھتا ادھر اُدھر دیکھتا پھر فون اُٹھاتا اسی کشمکش کے بعد خاور حسین 8بجکر45 منٹ پر گاڑی سے نکلا ، سامنے پیٹرول پمپ پر پہنچا نکڑ پر پنکچر والے سے “موبائل سے سم کارڈ” نکالنے کیلئے نوکیلی چیز مانگی ، سم کارڈ نکالا اور دنیا سے رشتہ ختم کردیا ، اب تنہائی تھی اور خاور ۔
دو گھنٹے خاور گاڑی میں بیٹھا زندگی کو سوچتا رہا ، گاڑی سے اُترتا ، واش روم استعمال کرتا پھر زندگی اور موت کی کشمکش میں کھوجاتا ، اپنے فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرتا اور آخرکے لمحات میں ڈرائیونگ سیٹ پر تھکے ہوئے ، ہارے ہوئے انسان کی طرح سر رکھتا ، پستول ہاتھ میں لیتا اور 10 بجکر 46 منٹ پر خودکشی کرلیتا ہے ۔سینئر سیاسی رپورٹرز کامران رضی ، سنجے سادھوانی ، سلیم جھنڈیر ، کے ایم عباسی ، حمید سومرو ، رفیق بھٹو ، اکرم بلوچ سمیت دیگر صحافیوں نے خاور حسین کی خودکشی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان ، ڈی آئی جی عرفان بلوچ ، ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن اور ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ نے تفتیش مکمل کرلی ہے ، پستول ہاتھ میں کیوں تھا ؟ فائر کی آواز کیوں نہیں آئی ؟ خاور کہاں گھومتا رہا ؟ ان تمام سوالات کے جواب پولیس کے پاس موجود ہیں ، میڈیکل بورڈ نے بھی اس واقعے کو خودکشی قراردیا ہے ۔ خاور کی زندگی کے کچھ پہلوئوں پر پردہ رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں میرے یار کا آخری سفر سکون سے طے ہوجائے ۔ آمین(طحہ عبیدی)۔۔
