peca qanoon sahafion ke khilaaf muqadmaat rokne keliye hukum imtenah iasatadaa mistrad

پیکا ایکٹ اور صحافت کا گھٹن زدہ موسم

تحریر: شمعون عرشمان۔۔

پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی ایک بار پھر قانون کی زنجیروں میں جکڑی جا رہی ہے۔ پیکا ایکٹ، جو 2016 میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے نام پر بنایا گیا تھا، آج صحافت کی گردن پر تلوار بن چکا ہے۔ یہ قانون کاغذ پر تو “جعلی خبروں” اور “غیراخلاقی مواد” کے خلاف ہے، مگر حقیقت میں اس کا سبب سے زیادہ نشانہ وہ صحافی بنے  جو طاقتور حلقوں کو ناگوار سچ سناتے ہیں۔

گرفتاریوں کا سلسلہ

حال ہی میں خواتین صحافیوں پر ایک انوکھا مقدمہ بنا—صرف ایک WhatsApp گروپ میں شامل ہونے کی پاداش میں۔ 171 ارکان پر مقدمہ درج، چار خواتین کو براہِ راست نامزد، اور ریاست کا مؤقف یہ کہ گروپ میں “غیرقانونی مواد” زیرِ بحث تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب نجی گفتگو بھی جرم بن گئی ہے؟

اسی طرح فرحان  ملک ، جو ایک آن لائن پلیٹ فارم کے بانی ہیں، مارچ میں گرفتار ہوئے۔ الزام؟ “ریاست مخالف بیانیہ” اور “جعلی خبر”۔ یہ الفاظ اتنے مبہم ہیں کہ ہر اختلافی رائے ان میں ڈھل سکتی ہے۔

اسلام آباد کے سینئر کورٹ رپورٹر وحید مراد کو عطا اللہ مینگل کے ٹوئیٹ کو شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیا ۔۔اور پیکا کیس بنایاگیا۔۔

ماضی کی جھلک

یہ کہانی نئی نہیں۔ 2019 میں شہزیب جیلانی کے خلاف “سائبر دہشت گردی” کا مقدمہ بنا، 2020 میں بلال فاروقی اور دیگر صحافی پکڑے گئے، اور اسد طور سے لے کرابصار عالم تک کئی نام ابھی تک عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ گویا صحافت ایک ایسا جرم ہے جو ہر وقت زیرِ تفتیش رہتا ہے۔

یہ صرف صحافی نہیں کہہ رہے، بلکہ دنیا بھر کے ادارے شور مچا رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ اسے “ظالمانہ قانون” قرار دیتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ یہ صرف اختلافی آوازوں کو دبانے کی ترکیب ہے۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (RSF) پاکستان کو پریس فریڈم انڈیکس میں 152ویں نمبر پر لاتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ پیکا قانون سنسرشپ کی نئی دیوار کھڑی کر رہا ہے۔

صحافیوں کی اپنی تنظیمیں، جیسے PFUJ، بار بار احتجاج کر رہی ہیں لیکن قانون کی گرفت کمزور نہیں پڑتی۔

اصل مسئلہ

اصل مسئلہ اس قانون کی مبہم تعریفات ہیں۔ “جعلی خبر” کیا ہے؟ یہ فیصلہ کون کرے گا؟ حکومت؟ وہی حکومت جو اپنے خلاف تنقید کو برداشت نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ صحافی اب کھل کر لکھنے سے کتراتے ہیں۔ کالم ہو یا ٹویٹ، ہر لفظ کو پیمانہ کر کے لکھنا پڑتا ہے، کیونکہ گرفتاری اور ہتھکڑی صرف ایک پوسٹ دور ہے۔

عدلیہ اور سیاست

عدالتیں کبھی کبھی اس قانون کو “غیر آئینی” قرار دیتی ہیں، مگر پھر نئی ترامیم کے ذریعے اسے اور سخت بنا دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اظہارِ رائے اور قانون کا مقابلہ ایک رسا کشی ہے، جس میں قانون ہمیشہ ریاستی طاقت کے پلڑے میں ڈالا جاتا ہے۔

آگے کا راستہ

اگر پاکستان کو واقعی ایک جمہوری ملک بننا ہے تو صحافیوں کو آزادیِ اظہار دیے بغیر یہ ممکن نہیں۔ پیکا کو ختم یا کم از کم ازسرِنو مرتب کرنا ہوگا۔ اس کی مبہم دفعات کو واضح کرنا ہوگا تاکہ اختلافی رائے کو “جرم” نہ سمجھا جائے۔

نتیجہ

پاکستانی صحافت آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر لفظ خطرہ بن سکتا ہے۔ پیکا ایکٹ نے خبر کی سچائی کوکٹہرے میں لاکھڑاکیاہے ۔ اب فیصلہ یہ  کرنا ہے کہ کیا ہم سچ کو آزاد ہونے دیں گے یا اسے ہمیشہ قانون کی کوٹھڑی میں قید رکھیں گے۔(شمعون عرشمان)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں