یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم آزادی صحافت پر حملہ ہے، پی ایف یو جے دستور

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور (پی ایف یو جے دستور) نے  27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کے حکم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔پی ایف یو جے دستور کے صدر  محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ  27 یوٹیوبز بیک قلم جنبش بند کرنے  کاحکم نہ صرف غیر آئینی اور غیر قانونی ہے پاکستان سے باہر پاکستان کی ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں کھڑے لیکن پاکستان میں قانون و قاعدے کے مطابق کام کرنےوالوں کی آواز نہیں دبانی چاہیے بلکہ اس سے ملک میں صحافیوں کی آزادی، بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا پر ان کی موجودگی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں جو یوٹیوب چینلز پاکستان کے اندر قانونی دائرے میں کام کر رہے ہیں ان پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں۔واضح رہے کہ 24 جون کو اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کو ہدایت کی تھی کہ وہ مبینہ سائبر کرائمز کی بنیاد پر 27 یوٹیوب چینلز بند کرے۔ ان میں معروف صحافیوں مطیع اللہ جان اور حبیب اکرم سمیت سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریکِ انصاف کے آفیشل چینلز بھی شامل ہیں۔پی ایف یو جے دستور کے صدر  محمد نواز رضا نے کہا کہ “یہ فیصلہ دراصل ان آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو حکومتی  کے غلط اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔ ان صحافیوں کو   سنا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے ایسے فیصلے شفافیت کے تقاضوں کو پامال کرتے ہیں۔سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے کہا کہ “اگر عدالتیں ایسے فیصلے بغیر اطلاع اور صفائی کا موقع دیے جاری کرنے لگیں تو یہ صرف صحافت نہیں، بلکہ آئین و قانون کے اصولوں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔پی ایف یو جے دستور نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی  کہ وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔یونین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا معاشی بحران کا شکار ہے، صحافیوں کی بڑی تعداد نے یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اب ان پلیٹ فارمز کو بند کرنا نہ صرف اظہارِ رائے کی بندش ہے بلکہ صحافیوں کا معاشی قتل بھی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 152واں نمبر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں آزادیٔ صحافت کس قدر خطرے میں ہے۔پی ایف یو جے دستور نے اس اقدام کو ریاستی سرپرستی میں جاری ڈیجیٹل جبر قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام متاثرہ صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر قانونی، جمہوری اور صحافتی پلیٹ فارم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں