tabasi eid ka kehraam

تباسی عید کا کہرام۔۔۔       (طنزومزاح)۔۔

تحریر:سید عارف مصطفٰی

اس میں کوئی شک نہیں کے سماجی و مذہبی اعتبار سے عید تو صرف پہلے دن کی ہی ہوتی ہے لیکن تباسی عید تو سراسر و دراصل عید کا سوئم ہوا کرتا ہے ، کم ازکم بچوں کے تعزیتی چہروں سے تو یہی لگتا ہے ، رہ گئے بڑے تو وہ اس یوم واردات کو بھلانے کی کوششیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ جب انکی جیبوں پہ عیدی کے نام پہ ‘ ڈاکہ بالرضا’ پڑا تھا اور ایک نہیں کئی کئی بار، اورانہیں ایسے ایسے خبیثوں کو بھی بتیسی نکال کے عیدی دینی پڑی تھی کہ عام دنوں میں جن کی بتیسی نکال دینے کے لیے  ان کا دل مچلا رہتا ہے۔۔۔

تباسی عید کا دن دراصل ایسے محتاط رشتہ داروں اور ڈیڑھ ہوشیار احباب کی باہم ملاقات کا ہوتا ہے کہ جنہیں عیدی دینے کے نام سے ہی پت اچھل جاتی ہے ۔۔۔ تاہم اگر کسی کی کسی سے کوئی بڑی غرض اٹکی ہوئی ہو تو عید کئی دن مزید بھی چل سکتی ہے کیونکہ ایسا ‘غرضی ‘ایک ہفتے بعد بھی بڑی چستی سے پہلے عیدی اور پھر اپنی عرضی دینا نہیں بھولتا۔

تباسی عید کا دن اک طرح کا یوم عبرت ہے کیونکہ اس روزکے آنے تک کئی ‘مہان’ ندیدے لوگ اپنے کیے کی سزا بھگتنا شروع کرچکے ہوتے ہیں اور جن جن لوگوں کے دسترخوان پہ انہوں نے تباہی و ‘انّی’ مچائی ہوتی ہے انکی مستعجاب بددعاؤں کے طفیل ، اس غذائی غارتگری پہ عذاب کا نزول شروع ہو چکا ہوتا ہے اور تباسی کے روز بوقت مصافحہ ایسےغارتگروں کا ایک ہاتھ معدے پہ پڑے رکھنے کے لیئے ریزرو رہتا ہے اور وہ ہردو باتوں کے بیچ کم ازکم ایک بار کراہنا نہیں بھولتے، اس روز وہ سارا ہی دن ڈاکٹروں کے کلینک کے اندر یا عموماً گھر کے ” بیت الخلاء” کے آس پاس ہی پڑے ملتے ہیں اور دوران گفتگو بھی انکی توجہ فوری ‘حاجت روائی’ کے امکانات کی جانب ہی مرکوز رہتی ہے –

تباسی کے روز بچے اپنے گھر کے بڑوں کی طرف مطلق دھیان نہیں دیتے کیونکہ انہیں ان سے اس روز مزید عیدی ملنے کی بھلائی کی توقعات ہی اٹھ گئی سی ہوتی ہیں ۔۔۔ البتہ وہ نئے مہمانوں کی آمد پہ لپک کے دروازہ کھولنا بھی نہیں بھولتے ، ہر بچے کا ایسا پرجوش خیرمقدم یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابھی عیدی گانٹھنے کے امکانات سے مکمل طور پہ مایوس نہیں ہوا ۔۔۔

مشورتاً عرض ہے کہ اگر آپ کو تباسی کے دن کسی کے گھر جانا ضروری بھی ہو تب بھی آنا فاناً سام میزائل بن کے ہرگز نہ پہنچیں بلکہ کسی کے ہاں چھ سات گھنٹے پہلے بتا کے پہنچیں کہ یہی عین دانشمندی کا تقاضا ہے اور اس سے آپکے تعلقات محفوظ و مستحکم رہ سکتے ہیں ، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے آپ ان خواتین کی بددعاؤں کا نشانہ بن سکتے ہیں   جو کہ ابھی دوروز قبل تک تو مہ لقاء ، پری اور اپسرا سی دکھتی تھیں لیکن آج گھر میں ِبِیچا ، لنُگاڑن اور لُقندری سی بنی پائی جاتی ہیں ، دیکھیے  میں نے چڑیل نہیں کہا ، کیونکہ یہ کہنے نہیں سمجھنے کی بات ہے ، پورا خدشہ ہے کہ آپکے اس اچانک چھاپے سے صاحب خانہ کو بھی سگار کے بجائے بیڑی پیتے ہوئے ، امپورٹڈ چاکلیٹ کے بجائے دیسی ریوڑی گٹکتے ہوئے دیکھ لینے سے ایک ایسی اندرونی بدمزگی جنم لے سکتی ہے کہ جس کے مضر اثرات بعد میں برآمد ہوکے رہتے ہیں اور یہ بھی کون باوقار مدبر چاہے گا کہ اسے بغیر وگ و بغیر بتیسی کے ، بلکہ شاید بغیر کرتا بنیان کے، عالم وحشت میں اپنی بڑی سی برہنہ توند کھجاتے ہوئے محض قناتی کچھے میں دھر پکڑ لیا جائے ۔۔۔

آپ یہ بھی سن لیجیئے کہ گر آپ تباسی کے دن کسی ‘غیر مجبور’ کے گھر جائیں تو تازہ ‘ شیرخورمے اور چٹپٹے چھولوں و چہکا مارتے دہی بڑوں کی توقع رکھنا عبث ہے ، اگر ماحضرسے جانی پہچانی ‘باس’ آئے تو نظرانداز کر یں اور اس بوسیدگی کو قسمت کا لکھا اور اپنی ہی سستی کا خمیازہ سمجھیں ، بس طبیعت کی خرابی کے بہانے کو منہ پہ لٹکائے رکھیں ، میزبان مزاج شناس ہوا تو خوشدلی سے یہ ‘دیرینہ و تاریخی’ ڈشیں نئے بے خبر مہمانوں کے لیے  اٹھا رکھے گا۔

 ویسے زیادہ امکان یہی ہے کہ تباسی کا میزبان یا تو چائے پلانے کو ہی کافی سمجھے گا لیکن اگر کسی ذاتی غرض سے خاصا مجبور بھی ہوا تو پھر بھی وہ تازہ بتازہ شیرخورمہ تو حاضر کرنے سے رہا،زیادہ سے زیادہ  ڈائریکٹ صرف کھانا ہی کھلادے گا جو کہ آپ تباسی کے صدقے چپ چاپ صبر کرکے کھالیں اور یہ شکوہ ہرگز زبان پہ  نہ  لائیں کہ مجھے “ٹینڈے بالکل پسند نہیں ہیں۔۔۔(سید عارف مصطفیٰ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں