تحریر: امجد عثمانی۔۔
کچھ لوگ ناقابل فراموش ہوتے ہیں۔۔زندگی میں راستے بدل بھی لیں تو دل کا “اٹوٹ انگ رشتہ” نہیں ٹوٹتا کہ خلوص کے لمحات کب مرتے ہیں۔۔ایسے ہی لوگ دنیا بھی چھوڑ جائیں تو “نقش خیال” بن جاتے ہیں۔۔کسی نہ کسی موڑ پر یاد آگئے۔۔کسی مصافحے کا لمس یاد اگیا۔۔کسی معانقے کی ٹھنڈک یاد آگئی۔۔کچھ باتیں یاد آگئیں۔۔والد گرامی کے بعد سید تنویر عباس نقوی ۔۔راجہ اورنگزیب۔۔خالد چودھری۔۔ حافظ ظہیر اعوان اور حافظ نعیم کی یادوں کے جھونکے دل ودماغ کو معطر کر دیتے ہیں ۔۔ان سے پہلے داغ مفارقت دے جانے والے سید نوید بخاری بھی کیا باغ و بہار شخصیت تھے کہ چہکتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی۔۔کچھ دن پہلے بخاری صاحب نا جانے کیوں شدت سے یاد آئے۔۔یاد کیا آئے یادوں کی جھڑی لگ گئی۔۔بخاری صاحب سے پہلی ملاقات روزنامہ تحریک میں ہوئی تھی۔۔وہ وہاں ایڈیٹر تھے۔۔بخاری صاحب روزنامہ خبریں کے پہلے چیف نیوز ایڈیٹر ثمر عباس زیدی کے تربیت یافتہ تھے ۔۔وہ نیا اخبار کے بانیوں میں سے بھی تھے۔۔خبر کی کیا ہی ادارت کرتے ۔۔کیا ہی سرخیاں جماتے۔۔۔یہ 2001 کی بات ہے اور نائن الیون کا زمانہ۔۔ایک نامہ نگار سطح کے مبینہ چیف ایڈیٹر ساتھ کتنا عرصہ چلا جا سکتا تھا سو ہم لوگ جلد ہی قائد انقلاب کی جماعت کے اخبار کو خیر باد کہہ گئے۔۔یہ میرے کیرئیر کے ابتدائی ماہ و سال تھے اور پہلی بیروزگاری بھی۔۔پھر بخاری صاحب مرشد اور ہم مرید ٹھہرے۔۔۔صبح و شام ایک ساتھ گزرتے۔۔۔میرا لاہور پریس کلب سے پہلا تعارف بھی بخاری صاحب نے کرایا۔۔۔۔وہ کونسل ممبر تھے اور ہم ان کے مہمان ہوتے۔۔۔میرے علاؤہ محمود ریاض بھی ان کے خاص آدمی تھے۔۔وہ انہیں چودھری کہتے اور ایک اور دوست کو خالہ جی۔۔۔۔۔۔تب کلب کا بھی کیا نظم تھا۔۔۔۔وہ ہمیں لیے استقبالیے پر جاتے۔۔۔کلرک کو بتاتے یہ میرے مہمان ہیں۔۔۔ہمارا اندارج ہوتا اور اندر جانے کا اجازت نامہ ملتا۔۔۔تب پرانا کیفے تھا اور ہم سہ پہر کو کیفے کے باہر بیٹھ کر چائے پکوڑے کھاتے۔۔۔بخاری صاحب کا ٹی میکر طارق خان سے بڑا پیار تھا۔۔۔۔وہ بھی اتنی عقیدت سے چائے بناتے کہ ہم چسکیاں لیتے رہ جاتے۔۔۔۔انہی دنوں بخاری صاحب کو نا جانے کیا سوجھی کہ انہوں ایک ایڈونچر کرنے کی ٹھان لی۔۔۔انہوں نے گوجرہ کے اپنے گرائیں اور اسلام آباد میں مقیم صحافی جناب خالد اطہر کی نڈھال پڑی نیوز ایجنسی پی پی اے کو کم ورسائل کے ساتھ بحال کردیا۔۔۔بخاری صاحب کو گوجرہ سے عقیدت تھی۔۔۔ڈاکٹر محمد حسین کی معیت میں دوست آتے تو نام کے لے کر بتاتے یہ میرے یاران شہر ہیں۔۔۔۔بخاری صاحب نے مجھے پی پی اے اردو ڈیسک کا انچارج بنادیا۔۔۔انگریزی سلمان اعوان دیکھتے۔۔۔۔پی پی اے کا پہلا دفتر سول سیکرٹریٹ پاس تھا۔۔۔پھر ٹیمپل روڈ پر گئے۔۔۔پھر شادمان اور پھر گلبرگ۔۔۔۔میری انہی دنوں روزنامہ صحافت کے شام کے اخبار روزنامہ دوپہر میں بھی جاب ہو گئی۔۔۔پھر میں اور برادرم عابد چودھری کریم بلاک میں روزنامہ دوپہر کے دفتر سے نکلتے۔۔۔سٹیشن پر حافظ ہوٹل کا کھانا کھاتے اور گلبرگ میں پی پی اے دفتر جاتے۔۔۔۔گلبرگ کا دفتر برادرم وسیم سردار کا تھا اور انہوں نے پی پی اے کو فی سبیل اللہ دیا ہوا تھا۔۔۔ادھر رانا فواد۔۔بلال غوری اور اختر حیات صاحب بھی خبریں دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔میرا خیال ہے خالد رشید بھی۔۔۔ہمارے ساتھ دفتر میں محمود ریاض۔۔۔عرفان ریاض۔۔۔عاطف اور کاشف شیخ بھی ہوتے تھے۔۔۔عاطف آج کل ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر ہیں جبکہ کاشف وکیل بن گئے۔۔۔کاشف شیخ کے والد گرامی انگریزی اخبار نویس تھے اور وہ ٹھہرے کرائم رپورٹر۔۔۔۔کاشف لاہور میں روزنامہ اسلام کے بھی پہلے کرائم رپورٹر تھے۔۔۔۔مجھے روزنامہ اسلام کے مولوی حضرات کی صحافتی سادگی کی کہانیاں مزے مزے لیکر سنایا کرتے تھے ۔۔۔تب کاشف کے پاس 70موٹر سائیکل تھی۔۔۔کیا زمانہ تھا کہ ہم لوگ دس روپے کے پٹرول میں پورا لاہور گھوم لیتے۔۔۔پی پی اے شروع کی تو یہ نائن الیون کے بعد زمانہ تھا۔۔۔افغان جنگ عروج پر تھی۔۔۔افغانستان کے حوالے سے روزنامہ اسلام کی خبریں بڑی اہم ہوا تھیں کیونکہ ان کے وہاں مستند ذرائع تھے۔۔۔میں بڑی باریک بینی سے روزنامہ اسلام دیکھتا اور اہم خبریں نکال کر پی پی اے سے جاری کر دیتا۔۔۔وہ اگلے دن نمایاں شائع ہوجاتیں۔۔۔ہم ٹیمپل روڈ پر روزنامہ خدمت کے مالک مولانا اشفاق کے دفتر میں تھے کہ ایک دن میں نے اسلام سے ایک خبر لفٹ کی۔۔۔شاید خبر تھی کہ امریکہ نے جامعہ ازہر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔اگلے روزنامہ دن نے اس خبر کو صفحہ تین کی شہ سرخی کے طور پر چھاپ دیا۔۔۔اسی طرح شبرغان جیل میں پاکستانی قیدیوں کی فہرست جسے نوائے وقت اور پاکستان سمیت کئی اخباروں نے شائع کیا تو مولانا گھبرا گئے کہ ان خبروں کا سورس کیا ہے؟؟؟بخاری صاحب نے کہا حضرت گھبرائیں نہ ضرورت پڑی تو سورس بھی بتادیں گے مگر وہ واقعی گھبرا گئے اور ہمیں دفتر بدلنا پڑا ۔۔۔۔شومئی قسمت کہ پی پی اے پائوں پر کھڑا ہوا تو خالد اطہر نے ناجانے کیوں ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔ بخاری صاحب آخر کار روزنامہ جنگ کے شام کے اخبار روزنامہ انقلاب سے بطور نیوز ایڈیٹر وابستہ۔ ہوگئے۔۔۔ان کے ساتھ جناب نفیس بزمی تھے۔۔۔۔نیوز ایڈیٹروں کی اچھی جوڑی۔۔بخاری صاحب کا میرے ساتھ ادب واحترام کا رشتہ تھا۔۔۔۔2003 میں میرے ولیمے پر ٹرین پر شکرگڑھ گئے۔۔۔واپس آکر مذاق کیا کرتے کہ انوکھی ٹرین دیکھی۔۔۔مسافر جہاں چاہے چلتی ٹرین سے اتر جاتے۔۔۔تب نارووال سے شکرگڑھ ٹریک ناکارہ ہوچکا تھا اور پھر زمین بوس ہی ہوگیا۔۔۔۔اسی طرح برادرم شاہد کی بارات پر بھی ہم ایک ساتھ تھے ۔۔۔۔انہوں نے دولہے میاں سے وہ شغل لگایا کہ قہقہے گونج اٹھے۔۔۔۔بخاری صاحب کے کچھ خانگی مسائل تھے۔۔۔۔وہ لاہور میں اپنے بھائی اور بہن ساتھ قیام پذیر تھے۔۔۔۔میں انہیں گاہے چھیڑتا کہ بخاری صاحب ولیمہ ہی کھلا دیں تو ایک ہی بات کہتے حضرت صاحب کوئی rich widiw تلاش کریں۔۔۔بخاری صاحب روزنامہ انقلاب میں ہی تھے کہ عارضہ قلب نے آن گلے لگایا۔۔۔۔میری آخری ملاقات پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہوئی۔۔۔۔میں شکرگڑھ تھا کہ انہیں پھر اٹیک ہوا اور پھر محمود ریاض کا فون آیا کہ بخاری صاحب دنیا چھوڑ گئے ہیں۔۔۔دل سوگ میں ڈوب گیا۔۔۔آنکھیں چھلک پڑیں۔۔زندگی کی کہانی بھی عجب پراسرار کہانی ہے۔۔۔کہاں طلوع ہوتی۔۔۔کہاں شب و روز بتاتی اور کہاں غروب ہو جاتی ہے۔۔۔۔بخاری صاحب بھی اپنے والدین کے ساتھ اپنے آبائی قبرستان ابدی نیند جا سوئے۔۔۔آہ۔۔۔زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔۔۔!!!دل کرتا ہے کسی دن گوجرہ شہر کے شہر خاموشاں جائوں اور لاہور کے بڑے اخبار نویس کی آخری آرام گاہ کے سرہانے ہاتھ باندھ کر ایصال ثواب کہوں۔۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔
