social media par ghair ikhlaqi mawad se mutaliq report adalat mein jama

سوشل میڈیا پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایکشن ہوگا۔۔

تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے کہا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کی ریگولیشن بہت ضروری ہوگئی ہے۔سوشل میڈیا کو آرٹیکل 19کے مطابق ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر بھی ایکشن لیا جاسکتا ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر خان اور وزیرتعلیم سندھ سعید غنی بھی شریک تھے۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی مخالفین، تنقید کرنے والے صحافیوں کے ساتھ ججوں کی ٹرولنگ کرواتی ہے، غیرمناسب بات کردوں تو قیادت کی طرف سے شٹ اپ کال آتی ہے۔۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر طریقے سے منطقی بات کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔سوشل میڈیا پر جو جتنی بدتمیزی کرتا ہے اسے اتنا ہی فالو کیا جاتا ہے، یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے صرف سیاست سے نہیں جوڑا جاسکتا، سوشل میڈیا کا جو حال ہے اب ہمیں سوشل میڈیا ریگولیشن کی طرف جانا چاہئے، 2011ء میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم بنی تو اس میں شامل رضاکار بہت اچھے ملٹی نیشنل اداروں میں کام کرنے والے لوگ تھے ۔احمد جواد کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر صحافیوں کو ٹیگ کرنا ایک غلطی تھی جسے فوراً ڈیلیٹ کردیا گیا تھا، پی ٹی آئی کے مرکزی سوشل میڈیا نے اس سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا تھا، ٹوئٹر اور فیس بک کے مانیٹرنگ سسٹم اردو میں گالیوں کی شناخت نہیں کرپاتے، پاکستان میں سوشل میڈیا کی ریگولیشن بہت ضروری ہوگئی ہے۔احمد جواد نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گالم گلو چ کرنے والے اپنے معاشرے اور گھر کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، پورنوگرافک اور جعلی نیوز پر آٹھ سے دس لاکھ ویب سائٹس پاکستان میں بند کی ہیں، ٹک ٹاک پر پابندی لگی تو ٹک ٹاک نے مانیٹرنگ سہولت دینے اور پاکستان میں دفتر کھولنے پر آمادگی ظاہر کی۔

hubbul patni | Imran Junior
hubbul patni | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں