پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے سوات پریس کلب کو سیل کرنے کے آحکامات کو غیر قانونی قرار دیا ، پریس کلب کو سیل کرنا آزادی اظہار رائے کے منافی ہے تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بیچ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سوات پریس کلب کو سیل کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 19ازادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے صحافی اور صحافت کو برائے راست حکومت اور حکومتی نمائندے کنٹرول نہیں کر سکتے ، آزادی صحافت ملک میں جمہوریت کی ضمانت ہے عدالت نے اس بات ہر حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح ایک سیکرٹری پریس کلب کے معاملات میں دخل اُندازی کرکے اپنے فیصلے مسلط کرسکتا ہے۔۔صحافیوں پر پابندی لگانے کے بجائے انکو تحفظ دینا اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔۔اس موقع پر سوات پریس کلب کی جانب سے ممتاز قانون دان اورنگزیب خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سوات پریس کلب مظلوم عوام کی آواز ہے اور اس فیصلے سے مظلوم عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی مذید کہا کہ صحافی کا کام حکونت کے غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرنا اور اچھے کام اجاگر کرنا ہے تنقید کے وجہ سے صحافیوں کو نشانہ بنانا حکونت کے شایان شان نہیں ، عدالتی فیصلے پر سوات کے کارکن صحافیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سوات پریس کلب کے چیر مین محبوب علی ،ملاکنڈ ڈویژن یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزاد عالم ، چیف آرگنائزر غلام فاروق ، سوات یونین آف جرنلسٹ کے صدر فضل رحیم خان نے عدالتی فیصلے کو سہراتے ہویے انہیں حق و صداقت کی جیت قرار دیا اور آزاد عدلیہ کو خراج تحسین پیش کیا
