لندن ہائی کورٹ نےنواز شریف کو اثاثہ جات کیس میں وسائل سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں سزا سنانے والےایک جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کے حوالے سے ناصر بٹ پر احتساب عدالت کے سابق جج کو دھمکیاں اور رشوت دینے کی پیشکش کے الزامات پر مبنی پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں نشر ہونے والے الفاظ کے معنی پر ناصر بٹ کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ ناصر بٹ نے برطانیہ میں سماء کے براڈ کاسٹر کمنگ ٹی وی لمیٹڈ پر 11 جولائی 2019 کو نشر کئے جانے والے نیوز شو میں دعویٰ کیا تھا کہ ناصر جنجوعہ اور ناصر بٹ جج ارشد ملک پر دبائو ڈال رہے تھے دھمکیاں دے رہے تھے اور ان کو رشوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔اس وقت یہ نجی ٹی وی چینل کی انتظامیہ دوسری تھی،اسی براڈکاسٹ میں شاہد خاقان عباسی نے ناصر جنجوعہ کا دفاع کیاتھا لیکن تجزیہ کار عدنان عادل نےناصر بٹ کے خلاف مزید الزامات عاید کرتے ہوئےشاہد خاقان عباسی کی وضاحت کو جھوٹے بیانات قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ اب یہ سازشیں بے نقاب ہورہی ہیں ،اور پاکستان کے عوام کو اس سازش کاعلم ہونا چاہئے ۔کیا ہمارا عدالتی نظام اور ریاستی ادارے فروخت ہوچکے ہیں؟۔ کیا کوئی سازشوں کے ذریعے ہمارےسسٹم کو سبو تاژ کررہاہے ؟عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ سازش ہوئی ہے۔انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اس میں کس حد تک ملوث ہیں ،اس کیلئے ان کو مثالی سزا دی جانی چاہئے۔ سما یوکے کے وکیل رشید احمد اور ناصر بٹ کے وکیل بیرسٹر لیمر دونوں نے اپنے دلائل میں2016 میں اے آروائی نیٹ ورک لمیٹڈ کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں میر شکیل الرحمان کے ہتک عزت کے مقدمے کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا جو کہ برطانیہ میں اردو ٹیلی ویژن براڈکاسٹس کے ہتک آمیز معنی کی بنیاد بنادیا ہے ۔سما یوکے کے وکیل اپنے دلائل میں کہا کہ اگر ان الفاظ کا متن جن پر شکایت کی گئی ہے کاسیاق وسباق کے ساتھ مجموعی طورپر جائزہ لیاجائے اور براڈ کاسٹ نے جو تاثر دیا ہے تو یہ ظاہر ہوتاہے کہ جن الفاظ پر شکایت کی انھیں جرم نہیں کہاجاسکتا اور ان سے ناصر بٹ کی توہین کا ارادہ بھی ظاہر نہیں ہوتا ،ابتدائی سماعت میں مسٹر جسٹس سینی نے سما یوکے کے خلاف فیصلہ دیا ،کیونکہ انھوں نے دیکھا کہ جن الفاظ کے خلاف شکایت کی گئی ہے کہ ناصر بٹ نے جج کو دھمکی دی اورانھیں رشوت دینے کی کوشش کی ،جسٹس سینی نے یہ بھی پایا کہ جن الفاظ کے خلاف شکایت کی گئی ہے وہ حقائق کابیان ہے اور الفاظ عمومی قانون کے تحت ناصر بٹ کیلئے توہین آمیز ہیں۔اس طرح جج نے الفاظ کے معنی کی پہلی سطح پر فیصلہ دیدیا، مسٹر جسٹس سینی نے دونوں فریقوں کواگلے سال مارچ کے آخر تک یا سماعت کیلئے تاریخ دئے جانے سے قبل جس میں براڈ کاسٹر کو شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہوگاکہ ناصر بٹ جج کو دھمکی دینے اور رشوت دینے کی کوشش کرنے کے مجرم ہیں مقدمے کاتصفیہ کرنے کی کوشش کریں۔ خیال کیا جاتاہے کہ ٹی وی اپنے دعوے کا دفاع کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ ناصر بٹ ابتدا ہی سے اپنے خلاف تمام الزامات کی پرزور تردید کرتے رہے ہیں۔
