صحافیوں کو خاموش کرنا مسائل کا حل نہیں۔۔

تحریر: عامر عباسی

پاکستان میں اظہارِ رائے، تنقیدی صحافت اور سیاسی بیانیے کے لیے یوٹیوب ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جو نہ صرف عوام کو متبادل ذرائع سے خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ سنسرشپ سے آزاد گفتگو کا ذریعہ بھی ہے۔ مگر حالیہ عدالتی حکم جس کے تحت متعدد یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایک ایسا فیصلہ ہے جو صرف ڈیجیٹل آزادی پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ جمہوری اقدار کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

ان بلاک کیے جانے والے چینلز میں معروف صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے نام شامل ہیں جیسے مطیع اللہ جان، اسد طور، اوریا مقبول جان، عمران ریاض خان، صابر شاکر، معید پیرزادہ، ساجد گوندل، آرزو کاظمی، مخدوم شہاب الدین اور کئی دیگر۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف، جو ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے، کے آفیشل یوٹیوب چینل کو بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی کشمکش اور ادارہ جاتی بحران عروج پر ہے۔

عدالت نے ان چینلز پر کیا الزامات عائد کیے، اس بارے میں مکمل تفصیلات اگرچہ واضح نہیں لیکن یہ امر ضرور قابلِ فکر ہے کہ خبر دینے، تجزیہ کرنے یا رائے رکھنے پر پابندی لگانے کا عمل آزادیِ اظہار اور میڈیا کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر کسی مواد میں قانون شکنی یا عوامی اشتعال انگیزی کا عنصر پایا جائے، تو اس کے لیے ضابطے موجود ہیںمگر پورے پلیٹ فارمز کی بندش ایک ایسا قدم ہے جو صرف اظہار کو ہی نہیں، بلکہ عوام کے حقِ معلومات کو بھی مجروح کرتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ریاستی ادارے اختلافِ رائے کو خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ جہاں عدلیہ کا کردار انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے، وہاں اگر اس کے فیصلے سنسرشپ اور سیاسی مداخلت کا رنگ اختیار کرنے لگیں، تو سوال جنم لیتے ہیں۔ کیا عدلیہ عوامی اعتماد کو مضبوط کر رہی ہے یا اس پر ضرب لگا رہی ہے؟یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم کو بلاک کرنا، وہ بھی ایسے وقت میں جب روایتی میڈیا شدید دباؤ کا شکار ہے، دراصل عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ صحافیوں کو خاموش کر دینا مسائل کا حل نہیں، بلکہ مسائل کی شدت میں اضافہ ہے۔ وہ ریاست جو تنقید سے گھبراتی ہے، اصلاح کی جانب قدم نہیں بڑھا سکتی۔اس فیصلے نے شہری آزادیوں، میڈیا کی بقا، اور سیاسی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں جن کے جواب تلاش کرنا صرف صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ خود ریاست کے اداروں کی بھی ہے۔ کیونکہ اگر بات کرنے، سننے، اور سچ کو سامنے لانے پر پابندیاں لگا دی جائیں، تو قوم اندھیرے کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔( عامر عباسی)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں