کمیٹی ٹوُ پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے حلف نامے کی رپورٹنگ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے صحافیوں پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔سی پی جے کے ایشیا پروگرام کے کو آرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ کسی بھی صحافی کو مصدقہ خبر شائع کرنے پر توہین عدالت کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا چاہئے، پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، میڈیا کی آزادی یہی ہے کہ خبریں آزادی سے رپورٹ کی جاسکیں۔دوسری جانب ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس نے ایک ٹوئیٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا، ’’جناب، صحافت جرم نہیں، اگر یہ حلف نامہ میرے پاس ہوتا تو میں نے بھی وہی کیا ہوتا جو انصار نے کیا – مکمل تصدیق کے بعد خبر چھاپنا۔اس کے علاوہ، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر کاظم خان، سیکریٹری جنرل عامر محمود اور دیگر عہدیداران نے رانا شمیم بیان حلفی کیس میں صحافیوں پرفرد جرم عائد کیے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صحافی نیک نیتی سے حقائق عوام تک پہنچاتے ہیں جس پر توہین عدالت کی کارروائی سمجھ سے بالا تر ہے۔۔قانون کی پاسداری اور اسکی تشریح معزز عدلیہ کی ذمہ داری ہے مگر صحافیوں کے خلاف ایسے اقدامات عالمی سطح پر آزادی اظہار میں رکاوٹ گردانے جاتے ہیں۔سی پی این ای کے رہنماؤں نے معزز عدالت سے استدعا کی ہے کہ صحافیوں پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دی نیوز کے صحافیوں پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ عدالت سے یہ فیصلہ کالعدم قرار دینے کی التجا کرتے ہیں۔عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کیس میں دی نیوز کے صحافیوں پر بھی فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ پریس کی آزادی کا تحفظ کرنا اور صحافیوں کو ان کی ذمے داریاں ادا کرنے کی آزادی دینا عوامی مفاد میں ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ بیرونی دباؤ سے آزاد رہے۔
