sahafi kabhi hukumato se award nai lete

صحافی کبھی حکومتوں سے ایوارڈ نہیں لیتے، رؤف کلاسرا۔۔

سینئر صحافی، کالم نویس اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ۔۔جب سے پاکستان میں اصلی اور نسلی جمہوریت 2008ء کے الیکشن کے بعد متعارف کرائی گئی‘ اس کے بعد مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی سال ایسا گزرا ہو جس سال قومی ایوارڈز کا اعلان متنازع نہ ہوا ہو۔ اگرچہ یہ کام بہت پرانا ہے‘ اور ہر دور میں حکومتیں اور سول وعسکری حکمران اپنے اپنے پسندیدہ لوگوں اور شخصیات کو ایوارڈز دیتے آئے ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جس نے ان لوگوں کو ایوارڈز دیے جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ تھے۔روزنامہ دنیا میں اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ۔۔ شاید ہر بندہ اب ریاست سے ایوارڈ لینا چاہتا ہے۔ اس کیلئے کئی ماہ پہلے لابنگ شروع ہو جاتی ہے۔ سیاسی افراد سے لے کر بیورو کریٹس تک کی سفارش چلتی ہے۔ میں ذاتی طور پر کچھ لوگوں کی کوششوں کا گواہ ہوں جو وہ ان ایوارڈز کی لسٹ میں نام ڈلوانے کیلئے کرتے رہے۔رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے استاد محترم ڈان کے ضیاء الدین مرحوم کو بھی ایوارڈ دینے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے ایک ہی لائن میں بات ختم کر دی کہ صحافی کبھی حکومتوں سے ایوارڈ نہیں لیتے۔ ان کا مطلب تھا کہ اگر صحافی سرکار سے ایوارڈ لیں گے تو پھر صحافت خاک کریں گے۔ وہ لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ کھو بیٹھیں گے۔ صحافی کے پاس اعتماد اور ساکھ کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے۔ اگر آپ نے سرکار کا ایوارڈ لے لیا تو آپ سرکاری صحافی سمجھے جائیں گے۔ لیکن دوسری طرف ایک اور سکول آف تھاٹ بھی ہے‘ جو سمجھتا ہے حکمران جیب سے آپ کو ایوارڈ نہیں دے رہے ہوتے۔ یہ ایوارڈ ریاست دیتی ہے جو آپ کی بھی ہے صحافی خبروں پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔ اس لیے اگر صحافیوں کو ایوارڈز ملتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ خبر پر کمپرومائز کرے گا یا اپنے تبصروں میں اس لیے ہاتھ ہولا رکھے گا کہ اسے ایوارڈ ملا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر صحافت کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔ایوارڈ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ ہر صحافی خود کرتا ہے۔ ضیاء الدین صاحب جیسے صحافی انکار کر دیتے تھے لیکن کچھ ہیں جو ایوارڈ لیتے ہیں اور حکومت پر مناسب تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔اپنے کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ ۔۔ہمارے ہاں اتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ ایوارڈز دیے جاتے ہیں کہ نہ کسی کو وہ نام یاد رہتے ہیں اور نہ ہی ان کو اہمیت ملتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں لوگ یہ ایوارڈ لینے کیلئے سفارشیں چھوڑیں‘ پیسے تک خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں نے بھی ایک سٹوری فائل کی تھی کہ 2008ء کی پیپلز پارٹی حکومت میں کراچی کے ایک بزنس مین نے پچاس لاکھ روپے ایک شخصیت کو دے کر پاکستان کا ایک ایوارڈ (غالباً نشانِ امتیاز) حاصل کیا تھا۔اب یہی دیکھ لیں کہ صدر زرداری نے اپنے بزنس پارٹنر انور مجید کو پاکستان کا ایک بڑا اعزاز (ہلالِ امتیاز) دیا ہے۔ یہ وہی انور مجید ہیں جو زرداری صاحب کے ساتھ نواز شریف کی تیسری حکومت میں جعلی بینک اکائونٹس سکینڈل میں جیل میں قید رہے۔ زرداری اور انور مجید اکٹھے جیل میں تھے‘ آج وہ اسی نواز شریف کے بھائی کی حکومت میں ایک دوسرے کو میڈل پہنا رہے ہیں۔ جب میڈلز اور ایوارڈ اس طرح بانٹے جائیں گے تو پھر ان کی کیا عزت باقی رہ جائے گی؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں