اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مدثر نارو کی گمشدگی سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان سے معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کی۔صحافی اگست 2018 میں وادی کاغان میں لاپتہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان کی اہلیہ صدف چغتائی، جو اپنے شوہر کی صحت یابی کی مہم میں سب سے آگے تھیں، مئی 2021 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔عدالت نے کیس میں معاونت کے لیے اے جی پی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی۔ قبل ازیں
مدثر نارو کی بازیابی کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، شرکاء سے خطاب میں مدثر نارو کی والدہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ میرے بیٹے کو بازیاب کروائیں گے،ریاست مدینہ کے والی عمران خان قیامت کے دن کیا جواب دیں گے، آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان میرے بیٹے کی بازیابی کے لیے کردار ادا کریں، بدقسمتی سے مدثر نارو تین سال سے لاپتہ ہے لیکن ابھی تک کوئی وعدہ وفا نہیں ہو سکا۔ عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ کوآرڈینیٹر جرنلسٹس ڈیفنس کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ دس ماہ سے زیر التواء ہے، عدالت اور ریاست کا کام ہے کہ مدثر نارو کو بازیاب کروایا جائے۔
