سینئر صحافی، کالم نویس اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ۔۔پنجاب میں سرکاری سکول‘ کالج یا ہسپتال تک نجی شعبے کو دیے جا رہے ہیں۔ حکومت کہتی ہے اس کا کام نہ سکول چلانا ہے‘ نہ ہسپتال چلانا‘ نہ نوکریاں دینا‘ بلوچستان سے لاشیں الگ آرہی ہیں‘ تو پھر حکمرانوں کا کیا کام ہے؟ کچھ عرصہ بعد اپنی غربت کا رونا رو کر اپنی تنخواہیں بڑھا لینا‘ ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکال دینا اور سکولوں اور ہسپتالوں سے ہزاروں استادوں یا نرسز کا ٹرانسفر کرکے دوردراز علاقوں میں بھیج دینا؟ اگر لیہ کے کسی سرکاری ہیلتھ یونٹ کی نرس کا تبادلہ ڈیرہ غازی خان کے ہیلتھ یونٹ میں کر دیاجائے گا تو وہ کیسے وہاں جاکر کام کر پائے گی؟ اس طرح خواتین ٹیچرز کو بھی لیہ سے ڈیرہ یا تونسہ بھیجا جائے گا تو وہ کیسے ایڈجسٹ کریں گی؟ صرف لیہ میں نہیں پورے پنجاب میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ سرکاری سکول ہوں یا ہسپتال‘ سب نجی شعبے کو دیے جارہے ہیں۔دنیانیوزمیں اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ ۔۔ یہ وہ حکمران ہیں جو آپ کی زندگیاں بدلنے آئے تھے اور کہانیاں سنا کر اپنی تنخواہیں میں کئی گنا اضافہ کرکے کہتے ہیں کہ ہمارا گزارہ نہیں ہوتا۔ آپ کا گزارہ نہیں ہوتا تو 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے کا کیسے گزارہ ہو رہا ہے؟ اور جن ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالا گیا ہے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیسے گزارہ کریں گے؟اب آپ کو سمجھ آئی کہ یہ سب عوامی درد میں ہمارے حکمران بننے کیوں آتے ہیں؟ ان سب کا اپنا اپنا درد ہے‘ انہیں عوام کا کوئی درد نہیں۔ وہی عوام جو ان کے نعرے مار کر باؤلے ہوئے پھرتے ہیں۔
