sahafio ki hifazat ke hawale se tarbeyati workshop ka ineqad

صدر آر آئی یو جے طارق عثمانی کا صدر نیشنل پریس کلب کے نام کھلا خط

محترم جناب اظہر جتوئی صاحب ، صدر نیشنل پریس کلب اسلام آباد ۔آداب !راولپنڈی پولیس کی طرف سے نیشنل پریس کلب کے معزز رکن طارق علی ورک سے پولیس کی بدسلوکی اور حوالات میں غیر قانونی طور پر بند رکھنے جیسے افسوسناک اور شرمناک واقعہ کیا ہے ؟ کیوں پیش آیا ؟ یقینا اس واقعے نے پورے ملک کے صحافیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں اور آج 10 روز گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں نیشنل پریس کی انتظامیہ نے کیا پیش رفت کی ہے ؟ راولپنڈی پولیس انتظامیہ اور حکومت پنجاب کی طرف سے کسی بھی قسم کی قانونی اور محکمانہ کارروائی نہ کرنے کیا وجوہات ہیں ؟ اس واقعہ نے پاکستان کی پوری صحافتی برادری اور صحافت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے اور یہ ایک صحافتی سانحہ ہے جس پر سب کو افسوس ہوا ہے ۔راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق علی ورک کو حراست میں رکھنے اور بدسلوکی کی  مذمت کرتی ہے ۔

 اس افسوسناک اور شرمناک واقعہ سے پورے ملک کے پروفیشنل صحافیوں کا عزت و احترام اور وقار مجروع ہوا ہے آر آئی یو جے اس واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے ، آپ سے اور کلب کی گورننگ باڈی سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعہ پر نیشنل پریس کلب کا جنرل باڈی اجلاس آئندہ 24 گھنٹوں میں طلب کیا جائے اور تمام حقائق ہاوس کے سامنے رکھیں جائیں بصورت دیگر جڑواں شہروں کی صحافتی کمیونٹی اور آر آئی یو جے اپنا لائحہ عمل دے گی ۔

جناب صدر ،یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حکومتوں ، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا سیٹھوں نے ایک مکروہ اور بھیانک سازش کے تحت شاندار ماضی کی حامل صحافیوں کی نمائندہ اور مضبوط تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو توڑا ، گروہوں اور گروپوں میں تقسیم کیا پھر غیر صحافتی عناصر کو ایک گھناونی سازش سے مسلط کر کے ٹاوٹ اور پاکٹ یونینیں بنا کر اربوں کروڑوں کے مالی فوائد حاصل کیے اور یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ انہی مسلط کردہ صحافتی گروپوں کی جعلی قیادت نے نیشنل پریس کلب میں بھی غیر صحافیوں میں ممبرز شپ ریوڑیوں کی طرح بانٹی اور آج حالت یہ ہے کہ یہی نیشنل پریس کلب کے غیر صحافی ممبرز جڑواں شہروں کے جواء خانوں ، منشیات کے اڈوں ، جعلی ہاوسنگ سوسائٹیوں، شیشہ سنٹروں ، مساج سنٹروں اور قحبہ خانوں سے بھتے وصول کرتے پھر رہے ہیں اور کئیوں نے تو خود ایسے مکروہ اور گھناونے دھندے شروع کر رکھے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے آئے روز کے پھڈے اورمار کٹائی کے واقعات سامنے آتے ہیں اور ایسے غیر صحافتی عناصر کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے پیشہ صحافت ، صحافتی ادارے اور خود نیشنل کلب کی ساکھ بری طرح مجروع ہورہی ہے آپ سے اور آپ سے پہلے کی قیادتوں سے اس حوالے سے متعدد بار نشاندھی کی گئی کہ نیشنل پریس کلب کو غیر صحافتی عناصر سے پاک کیا جائے جو ادارے کے وقار اور عزت کی بربادی کا باعث بنے ہوئے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث آج پروفیشنل صحافیوں نے پریس کلب اور صحافتی تنظیموں میں دلچسپی لینا ہی چھوڑ دی ہے اور آج صحافیوں کی حالت یہ ہوگئی کہ پولیس مار کٹائی بھی کرتی ہے غیر قانونی حوالات میں بھی بند کرتی ہے لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی صحافتی تنظیمیں ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے سینیٹ آف پاکستان کی پریس گیلری کا بائیکاٹ کرتی ہیں، وفود کی شکل میں وزیروں مشیروں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھتی ہیں ، ملک گیر احتجاج کی کال دیتی ہیں لیکن افسر شاہی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی ۔

جناب صدر ،سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا ایسا کیوں ہورہا ہے ؟پریس کلب میں جعلی ممبر شپ دینے کا ذمہ دار کون ہے ان ذمہ داران کا بھی تعین کرنا ہوگا ۔

جناب صدر، نیشنل پریس کلب کی ممبرز شپ پتھاریداروں سے واپس لیں ، غیر صحافتی عناصر کو نیشنل پریس کلب سے پاک کریں ، ایک ایک ممبر کا ریکارڈ اور اس کا ٹریک ریکارڈ چیک کریں وہ کون ہے ؟ کس ادارے سے ہے ، کس نے اس کو ممبر بنایا ؟ تمام ممبران کی تحقیقات پوری چھان بین کی متقاضی ہے ۔

جناب صدر ! اسی مختصر دورانیہ میں ملک کے بڑے میڈیا ادارہ ہونے کے دعویدار روزنامہ جنگ ، جیو اور دیگر ادروں نے سینکڑوں کی تعداد میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو جبری نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے اور صحافتی تنظیموں کا بھیانک مکروہ کردار تو میڈیا سیٹھوں کے پروردہ آلہ کاروں کے طور پر سامنے آیا ہے اور بےروزگار ہو جانے والے یہ سینکڑوں صحافی اور میڈیا ورکرز بے یارومددگار انتہائی کسمپرسی کی حالت میں لاوارث چھوڑ دیے گئے ہیں قبل ازیں جنگ میڈیا سیٹھ نے 7 میڈیا ورکرز کے خلاف توہین مذہب جیسے مکروہ فعل کی گھناونی سازش سے تھانہ وارث خاں میں مقدمہ میں پھنسانے کا جال بنا اور ان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے میں انکوائریاں کھلوائیں ، بہت سارے جرنلسٹوں کو ہراساں کرنے کے لیے ان کے خلاف پولیس کی طرف سے مقدمہ بازی کی گئی یا پھر مافیا گروپوں کے زریعے ڈرانے دھمکانے کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

جناب صدر،19 دسمبر 2024 کو مجھے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اسی روز دوپہر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ تقریب جس میں جڑواں شہروں کے پروفیشنل صحافیوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی، تقریب کے اختتام پر آپ نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہال میں تشریف لائے اور مجھے آر آئی یو جے کا صدر بننے پر مبارکباد دی جس کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ اس موقع کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام پروفیشنلز کی موجودگی میں آپ سے درخواست کی تھی کہ مضبوط تنظیم اور شاندار ماضی کی حامل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی تقسیم اور دھڑے بندیوں کے باعث گزرے سالوں میں ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کی بہت بری حالت ہے، سینکڑوں صحافی اور میڈیا ورکرز نوکریوں سے نکالے جا چکے ہیں اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، صحافتی تنظیموں کی بکھری آوازوں سے ورکنگ جرنلسٹس بےحال ہیں، میڈیا ورکرز کھڑے کھڑے نکالے جا رہے ہیں، صحافی اور صحافت دونوں کٹہرے میں کھڑے ہیں حکومتوں کی طرف سے آزادی اظہار پر پہرے بٹھائے جارہے ہیں ، آوازوں کو دبایا جارہا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافتی تنظیمیں اپنی الگ الگ دکانوں کی بجائے ایک ہی پلیٹ فارم سے یک زبان ہو کر جدوجہد کریں اور میں نے سب کے سامنے کراچی کی طرز پر راولپنڈی اسلام آباد کی سطح پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی اور واضح اعلان کیا کہ آپ اپنے گروپ کے سرکردہ محمد افضل بٹ سے بات کریں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائیں خواہ اس کی سربراہی صدر نیشنل پریس کلب ہی کرلیں اور یہ بات میں نے علی الاعلان کہی لیکن آج پورے 7 ماہ گزرنے کے باوجود آپ کی طرف سے یا آپ کے گروپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے صحافت اور صحافیوں کی آزادی ، اظہار رائے کی آزادیوں کے خلاف ایک خوفناک بھرپور وار کر کے راتوں رات کالا قانون پیکا ترمیمی بل 2025 کا نفاذ کر دیا گیا ، ہم سب ٹولیوں میں بکھرے کمزور صدائے احتجاج بلند کرتے رہ گئے اور حکومتوں نے یہ کالا قانون نافذ کردیا ۔

جناب صدر،ان تمام ایشوز پر آئندہ چوبیس گھنٹوں میں نیشنل پریس کلب کا جنرل باڈی اجلاس طلب کر کے جڑواں شہروں کے صحافیوں کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کریں ۔خیر اندیش،طارق عثمانی،کونسل ممبر ، نیشنل پریس کلب(صدر )راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں