وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے یونائیٹڈ کنگڈم کورٹ فار ایلیجیشنز میں انیل مسرت سے متعلق ان الزامات پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے کہ وہ روزویلٹ ہوٹل کی خفیہ خریداری میں ملوث ہیں اور وزیراعظم عمران خان سے تعلق کی وجہ سے ہوٹل کی مبینہ فروخت سے ناجائز فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ جنگ اور جیو کو بھیجے گئے اپنے معافی نامہ میں ریحام خان نے کہا کہ میں یو ٹیوب چینل ریحام خان آفیشل کی آپریٹر ہوں اور 6 دسمبر 2019 کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انیل مسرت کا حوالہ دیا تھا اور میں نے انیل مسرت کے بارے میں متعدد ریمارکس اور غیر ضروری تبصرہ کیا۔ اس میں ترمیم کی خواہش پر میں نے وڈیو ہٹا دی ہے اور میں مکمل طور پر اپنا تبصرہ واپس لیتے ہوئے مسٹر مسرت، ان کے بزنس اور ان کے مخیرانہ کاز کو پہنچنے والے نقصان پر معافی چاہتی ہوں۔ میں اس معاملہ کے بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کروں گی۔ اس یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ انیل مسرت نے تقریباً چھ ماہ قبل عدالتی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے محترمہ خان سے کہا تھاکہ وہ اپنے الزامات واپس لیں یا پھر ثبوت پیش کریں۔ دونوں فریقوں کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی ہے کہ ریحام خان کی جانب سے وضاحت جاری کرنے اور معافی مانگنے پر آمادگی کے بعد عدالت کے باہر تصفیہ ہو گیا تھا۔ جنگ اور جیو سے گفتگو کرتے ہوئے انیل مسرت نے تصدیق کی کہ انہوں نے ہتک عزت کے کیس میں ریحام خان سے تصفیہ کر لیا ہے اور وہ اس پر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا روزویلٹ ہوٹل کی فروخت یا خریداری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میں نے اپنے تمام بزنسز برطانیہ اور یورپ میں کئے ہیں اور کبھی بھی ناجائز اور غیر منصفانہ فوائد کے حصول کے لئے اپنے دوستوں اور نیٹ ورک کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔
