آپ کا فون یقیناً آپ کو عزیز بھی ہو گا اور آپ کے لیے اہم بھی اس بات سے قطع نظر کہ یہ آئی فون کا نیا ماڈل ہے یا نوکیا کا 3310 ماڈل۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سال 2022 کے آخر تک عالمی سطح پر تقریباً پانچ ارب موبائل فونز کو الیکٹرونک کچرا قرار دے کر پھینک دیا جائے گا۔بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ برائے الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونک اکیومپنٹ ویسٹ (ڈبلیو ای ای ای ) کا کہنا ہے کہ رواں برس 5.3 ارب موبائل فونز کو ری سائیکل نہیں کیا جائے گا بلکہ انھیں الیکٹرک کچرا قرار دے کر پھینک دیا جائے گا۔عالمی تجارتی اعداد و شمار پر مبنی یہ تخمینہ ’ای ویسٹ‘ کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 16 ارب موبائل فونز ہیں اور یورپ میں موجود موبائلز میں سے تقریباً ایک تہائی موبائل فونز اب استعمال میں نہیں ہیں۔ڈبلیو ای ای ای کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ واشنگ مشین سے لے کر ٹوسٹر تک اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز سے لے کر جی پی ایس ڈوائسز تک عالمی سطح پر الیکٹرونک کچرے کا ایک پہاڑ ہے اور سنہ 2030 تک یہ بڑھ کر 74 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا۔
