قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں سرکاری ریڈیو میں 300 گھوسٹ پینشنرز کا انکشاف ہوا۔ ڈی جی سرکاری ریڈیو نے بتایا کہ اڑتیس سو پنشنرز میں سے تین سو گھوسٹ پنشنرز تھے، ہم گھوسٹ پینشنرز کی نشاندہی کر کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہے ہیں،وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ سرکاری ٹی وی میں تمام ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا فیصلہ کیا ہے، مجھے جعلی ڈگری والے 200 ملازمین بھی نکالنے پڑے تو ضرور نکالوں گا،مالی بھرتی ہونے والے کو ایسو سی ایٹ پروڈیوسر لگایا گیا تھا، میں نے ٹی وی میں لابیز کو توڑنا ہے،قائمہ کمیٹی نے پیمرا ترمیمی بل پر ذیلی کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی، سرکاری ریڈیو کی کرائے پر دی گئی عمارتوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس میں رکن کمیٹی سحر کامران نے کہا کہ سرکاری ٹی وی میں حال ہی میں بھرتی کیے گئے اینکرز کی تفصیلات مانگی تھیں،سرکاری ٹی وی کا حال بھی اسٹیل ملز سے بدتر ہو گیا ،نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں لیکن ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا رہیں،یو ٹیوبرز کو لا کر بٹھا دیا گیا ۔
